نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 402 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 402

معنے جزو کتاب کی سمجھے جاتے ہیں اور پھر انہیں مختلف خیالات کی کشش کی وجہ سے کئی فرقے ہو جاتے ہیں اور ہر ایک فرقہ دوسرے فرقہ کے مخالف معنی کرتا ہے۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحه 377، 378) لا يُكلف اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا یعنی خدا تعالیٰ انسانی نفوس کو ان کی وسعت علمی سے زیادہ کسی بات کو قبول کرنے کے لئے تکلیف نہیں دیتا اور وہی عقیدے پیش کرتا ہے جن کا سمجھنا انسان کی حد استعداد میں داخل ہے تا اس کے حکم تکلیف مالا يطاق میں داخل نہ ہوں۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد 10 صفحه 432) ہمیں حکم ہے کہ تمام احکام میں ، اخلاق میں ، عبادات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں پس اگر ہماری فطرت کو وہ قوتیں نہ دی جاتیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کمالات کو ظلی طور پر حاصل کر سکتیں تو یہ حکم ہمیں ہر گز نہ ہوتا کہ اس بزرگ نبی کی پیروی کرو کیونکہ خدا تعالیٰ فوق الطاقت کوئی تکلیف نہیں دیتا جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے : لا يُكلف اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 156 ) ا جس پر خدا تعالیٰ کے نزدیک۔۔۔اتمام حجت ہو چکا ہے وہ قیامت کے دن مؤاخذہ کے لائق ہوگا اور جس پر خدا کے نزدیک اتمام حجت نہیں ہوا اور وہ مکذب اور منکر ہے تو گوشریعت نے (جس کی بنا ظاہر پر ہے ) اُس کا نام بھی کافر ہی رکھا ہے اور ہم بھی اُس کو باتباع شریعت کافر کے نام سے ہی پکارتے ہیں مگر پھر بھی وہ خدا کے نزدیک بموجب آیت لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا قابل مواخذہ نہیں ہوگا۔ہاں ! ہم اس بات کے مجاز نہیں ہیں کہ ہم اُس کی نسبت نجات کا حکم دیں۔اس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے، ہمیں اس میں دخل نہیں۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 186) ہم کو عقل سے بھی کام لینا چاہئے کیونکہ انسان عقل کی وجہ سے مکلف ہے۔کوئی آدمی بھی خلاف عقل باتوں کے مانے پر مجبور نہیں ہو سکتا۔قومی کی برداشت اور حوصلہ سے بڑھ کر کسی قسم کی شرعی تکلیف نہیں اٹھوائی گئی۔لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔اس آیت سے صاف 402