نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 386 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 386

66 و ہیبت و شفقت و نرمی و درشتی ہے۔“ (براہین احمدیہ۔روحانی خزائن جلد اول - صفحہ 193 - حاشیہ ) چنانچہ دیکھ لیں قرآن کریم کے احکامات بھی سموئے ہوئے ہیں۔مثلاً اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے جَزَاؤُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ (الشوریٰ 41) اور بدی کا بدلہ اتنی ہی بدی ہے اور جو معاف کرے اور اصلاح کو مدنظر رکھے تو اس کا بدلہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔پس یہ ہے اسلام کی سموئی ہوئی تعلیم جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی کہ سزا کا مقصد اصلاح ہے، غلط کام کرنے والے کے اخلاق کی بہتری ہے۔اگر معاف کرنے سے اصلاح ہو جاتی ہے، اخلاق میں بہتری آسکتی ہے تو معافی ہونی چاہئے۔اور اگر سزا ہی اس کی اصلاح کا ذریعہ ہے تو سزا دینا ضروری ہے۔ہاں یہ ضروری ہے کہ سزا اتنی ہی دی جائے جتنا کہ جرم ہے۔کسی طرح کا بھی ظلم نہ ہو۔اسلام کی تعلیم نہ تو یہ ہے کہ دائیں گال پر تھپڑ کھا کر بایاں بھی آگے کر دو اور نہ ہی یہ ہے کہ آنکھ کے بدلے آنکھ ضرور نکالنی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اب دیکھو اس آیت میں دونوں پہلوؤں کی رعایت رکھی گئی ہے اور عفو اور انتقام کو مصلحت وقت سے وابستہ کر دیا گیا ہے۔سو یہی حکیمانہ مسلک ہے جس پر نظام عالم کا چل رہا ہے۔یہ بتانے کے بعد کہ تمہارے پاس ایک رسول آیا جس نے تمام پرانی باتیں اور نئی باتیں بھی کھول کر سامنے رکھ دیں۔پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ قَدْ جَائی كُم مِّنَ اللهِ نُورٌ وَكِتب مين (المائدہ 16) یقینا تمہارے پاس ایک رسول آچکا ہے اور ایک روشن کتاب بھی۔یہ ٹو رجو یہاں بیان ہوا ہے یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے جیسا کہ ہم جانتے ہیں۔اس کی مثال میں نے پہلے بھی پیش کی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے سر اجبا مشنیرا کہا ہے۔ایک روشن چمکتا ہوا سورج کہا ہے۔کیونکہ اب آپ ہی ہیں جن کے ذریعہ سےخدا تعالیٰ کے ٹور نے آگے اپنی چمک دکھانی ہے اور اب کوئی نہیں جو اس واسطے کے بغیر 386