نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 387 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 387

اللہ تعالیٰ کی روشنی اور نور کو حاصل کر سکے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق اور خدا تعالیٰ کے وعدے کے مطابق آخری زمانہ میں سب سے بڑھ کر اس شخص نے اُس ٹور سے حصہ پانا تھا جسے مسیح و مہدی کا اعزاز دیا گیا اور اس حیثیت سے امتی نبی ہونے کے خطاب سے بھی نوازا گیا۔کیونکہ اب اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے انسان کامل، افضل الرسل اور سرا جا منیراً کی مہر، جو مہر نبوت ہے یہ جس پر لگے گی اُسے پھر اللہ تعالیٰ کے نور سے بھر دے گی۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتمیت نبوت خدا تعالیٰ کے نوروں کو بند کرنے کے لئے نہیں ہے بلکہ نوروں کو مزید جلا بخشنے کے لئے اور صیقل کرنے کے لئے ہے۔پس یہ ہے مقام ختم نبوت کہ وہ ایسی روحانی روشنی ہے جو پھر اعلی ترین روشنیاں پیدا کرسکتی ہے۔لیکن یہ واضح ہو کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس ٹور کے ساتھ کتاب مبین ہے جو پھر ایک نور ہے۔اس لئے اب قرآن کریم کے علاوہ جو کامل اور مکمل کتاب اور شریعت ہے کوئی اور کتاب اور شریعت نہیں اتر سکتی۔یہی ہم احمدی مانتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان دونوں باتوں کو یعنی نور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور نور قرآن کریم کو اپنے ایک شعر میں یوں بیان فرمایا ہے۔اس شعر سے دونوں مطلب نکلتے ہیں۔خدا تعالیٰ کا نور بھی اور قرآن کریم بھی جو خدا تعالیٰ کا کلام ہے کہ نور لائے آسماں سے خود بھی وہ اک نور تھے قوم وحشی میں اگر پیدا ہوئے کیا جائے عار دشمن اعتراض کرتا ہے کہ ایک ان پڑھ اور وحشی قوم کا شخص آخری پیغمبر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔جو خود بھی آتی ہے پڑھا لکھا نہیں۔فرمایا یہ تو کوئی اعتراض کی بات نہیں ہے۔یہ بات تو آپ کے مقام کو بڑھا رہی ہے کہ آسمان سے وہ کامل نور لے کر آئے جس نے وحشیوں کو انسان اور انسانوں کو با اخلاق اور باخدا انسان بنا دیا۔اس وحشی قوم نے جب اس ٹور سے حصہ پایا اور قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کیا تو دنیا کی سب سے زیادہ مہذب قوم بن گئی۔387