نُورِ ہدایت — Page 385
اور دوسری آیت کا ترجمہ ہے کہ اللہ اس کے ذریعہ انہیں جو اس کی رضا کی پیروی کریں سلامتی کی راہوں کی طرف ہدایت دیتا ہے اور اپنے اذن سے انہیں اندھیروں سے نور کی طرف نکال لاتا ہے اور انہیں صراط مستقیم کی طرف ہدایت دیتا ہے۔پس وہ تمام باتیں جو پہلی کتابوں میں ان کے ماننے والوں نے یا تو بدل دی تھیں یا چھپالیا کرتے تھے۔ظاہر نہیں کیا کرتے تھے ان کے بارہ میں خدا تعالیٰ نے اعلان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے اطلاع پا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اب دوبارہ دنیا کے سامنے وہ باتیں پیش فرما رہے ہیں۔اور صرف یہی نہیں بلکہ یہ جو اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے دنیا کے سامنے پیش ہو رہی ہیں ان میں بہت سے نئے احکامات ہیں۔بہت سی نئی باتیں ہیں۔خدا تعالیٰ تک پہنچنے کے، روحانیت میں ترقی کے نئے اور وسیع راستے کھل رہے ہیں۔اور ایسے احکامات ہیں جو انسان کی فطرت کے مطابق ہیں اور جن میں کوئی افراط اور تفریط نہیں ہے۔ایک ایسا رسول آیا ہے جو نہ شرقی ہے نہ غربی ہے۔ایک معتدل تعلیم ہے جو اسلام پیش کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ہر یک وحی نبی منزل علیہ کی فطرت کے موافق نازل ہوتی ہے۔( یعنی جس نبی پر وہ وحی اتر رہی ہو اس کی فطرت کے مطابق وحی نازل ہوتی ہے۔) " جیسے حضرت موسیٰ علیکلام کے مزاج میں جلال اور غضب تھا۔توریت بھی موسوی فطرت کے موافق ایک جلالی شریعت نازل ہوئی۔حضرت مسیح علیہ السلام کے مزاج میں حلم اور نرمی تھی۔سوانجیل کی تعلیم بھی حلم اور نرمی پر مشتمل ہے۔مگر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج بغایت درجہ وضع استقامت پر واقعہ تھا۔“ ( ایسا بہت زیادہ ایک ایسی جگہ پر واقع تھا جہاں نہ بختی تھی نہ نرمی تھی۔فرمایا کہ نہ ہر جگہ حلم پسند تھا اور نہ ہر مقام پر غضب مرغوب خاطر تھا۔نہ ہر جگہ نرمی ظاہر کرتے تھے۔نہ ہر جگہ اور موقع پر غصہ ہی ظاہر کیا جاتا تھا۔بلکہ ایک ایسا رستہ تھا جو سیدھا راستہ تھا)۔فرمایا کہ بلکہ حکیمانہ طور پر رعایت محل اور موقعہ کی ملحوظ طبیعت مبارک تھی۔سو قرآن شریف بھی ایسی طرز موزون و معتدل پر نازل ہوا کہ جامع شدت و رحمت، 385