نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 314 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 314

ہی اس سلسلہ کا ظل قائم رکھا۔یعنی آدم علیہ السلام کو جب پیدا کیا تو لا ہوتی حصہ تو اس میں یوں رکھ دیا جب کہا فإذَا سَوَّيْتُهُ وَ نَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّوحِي فَقَعُوا لَهُ سَجِدِينَ ( الحجر 30) اور ناسوتی حصہ یوں رکھا کہ حوا کو اس سے پیدا کیا۔یعنی جب روح پھونکی تو ایک جوڑ آدم کا خدا تعالیٰ سے قائم ہوا اور جب خوان کالی تو دوسرا جوڑ مخلوق کے ساتھ ہونے کی وجہ سے ناسوتی ہو گیا۔پس جب تک یہ دونوں حصے کامل طور پر کامل انسان میں نہ پائے جاویں وہ شفیع نہیں ہوسکتا۔جیسے آدم کی پسلی سے تو انکلی اسی طرح پر کامل انسان کی پسلی سے مخلوق نکلتی ہے۔الحکم جلد 6 نمبر 8 مورخہ 28 فروری 1902 ءصفحہ 6،5) حقیقی اور سچی بات یہ ہے جو میں نے پہلے بھی بیان کی تھی کہ شفیع کے لئے ضروری ہے کہ اول خدا تعالیٰ سے تعلق کامل ہوتا کہ وہ خدا سے فیض کو حاصل کرے اور پھر مخلوق سے شدید تعلق ہوتا کہ وہ فیض اور خیر جو وہ خدا سے حاصل کرتا ہے مخلوق کو پہنچا وے جب تک یہ دونوں تعلق شدید نہ ہوں شفیع نہیں ہو سکتا۔پھر اسی مسئلہ پر تیسری بحث قابل غور یہ ہے کہ جب تک نمونے نہ دیکھے جائیں کوئی مفید نتیجہ نہیں نکل سکتا اور ساری بحثیں فرضی ہیں۔مسیح کے نمونہ کو دیکھ لو کہ چند حواریوں کو بھی درست نہ کر سکے، ہمیشہ ان کوست اعتقاد کہتے رہے بلکہ بعض کو شیطان بھی کہا اور انجیل کی رو سے کوئی نمونہ کامل ہونا ثابت نہیں ہوتا۔بالمقابل ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کامل نمونہ ہیں کہ کیسے روحانی اور جسمانی طور پر انہوں نے عذاب الیم سے چھوڑ ایا اور گناہ کی زندگی سے ان کو نکالا کہ عالم ہی پلٹ دیا، ایسا ہی حضرت موسیٰ کی شفاعت سے بھی فائدہ پہنچا۔عیسائی جو مسیح کو مثیل موسی قرار دیتے ہیں تو یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ موسیٰ کی طرح انہوں نے گناہ سے قوم کو بچایا ہو بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ مسیح کے بعد قوم کی حالت بہت ہی بگڑ گئی۔اور اب بھی اگر کسی کو شک ہو تو لنڈن یا یورپ کے دوسرے شہروں میں جا کر دیکھ لے کہ آیا گناہ سے چھڑا دیا ہے یا پھنسا دیا ہے؟ اور یوں کہنے کو تو ایک چوہڑا بھی کہہ سکتا ہے کہ بالمیک نے چھوڑ ایا مگر یہ نرے دعوے ہی دعوے ہیں جن کے ساتھ کوئی واضح ثبوت نہیں ہے۔پس عیسائیوں کا یہ کہنا کہ مسیح چھوڑانے کے لئے آیا تھا ایک خیالی بات ہے۔جبکہ ہم دیکھتے ہیں 314