نُورِ ہدایت — Page 313
سے محبت کرنا اور ایک بنی نوع سے اس قدر محبت کرنا کہ ان کی مصیبت کو اپنی مصیبت سمجھ لینا اور ان کے لئے دُعا کرنا جس کو دوسرے لفظوں میں شفاعت کہتے ہیں۔(نسیم دعوت، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 463 464) یعنی کس کی مجال ہے کہ بغیر اذنِ الہی کے کسی کی شفاعت کر سکے؟ خدا کا قدیم سے قانونِ قدرت ہے کہ وہ تو بہ اور استغفار سے گناہ معاف کرتا ہے۔اور نیک لوگوں کی شفاعت کے طور پر دُعا بھی قبول کرتا ہے۔شفیع کا لفظ شفع سے نکلا ہے جس کے معنے بجفت کے ہیں۔اس لئے شفیع وہ ہوسکتا ہے جو دو مقامات کا مظہر اتم ہو۔یعنی مظہر کامل لاہوت اور ناسوت کا ہو۔لاہوتی مقام کا مظہر کامل ہونے سے یہ مراد ہے کہ اس کا خدا کی طرف صعود ہو، وہ خدا سے حاصل کرے اور ناسوتی مقام کے مظہر کا یہ مفہوم ہے کہ مخلوق کی طرف اس کا نزول ہو جو خدا سے حاصل کرے۔وہ مخلوق کو پہنچا دے۔اور مظہر کامل ان مقامات کا ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اسی کی طرف اشارہ ہے : دَنَا فَتَدَلی فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ ادنى۔(النجم 10-9) ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑوں کامل حصہ مقامِ لاہوت کا کسی نبی میں نہیں آیا۔اور ناسوتی حصہ چاہتا ہے بشری لوازم کو ساتھ رکھے اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام میں یہ ساری باتیں پوری پائی جاتی ہیں۔آپ نے شادیاں بھی کیں، بچے بھی ہوئے ، دوستوں کا زمرہ بھی تھا ، فتوحات کر کے اختیاری قوتوں کے ہوتے ہوئے انتقام چھوڑ کر رحم کر کے بھی دکھایا۔جب تک انسان کے پیرا یہ پورے نہ ہوں وہ پوری ہمدردی نہیں کرسکتا، اُس حصہ اخلاق فاضلہ میں وہ نامکمل رہے گا مثلاً جس نے شادی ہی نہیں کی وہ بیوی اور بچوں کے حقوق کی کیا قدر کر سکتا ہے؟ اور ان پر اپنی شفقت اور ہمدردی کا کیا نمونہ دکھا سکتا ہے؟ رہبانیت ہمدردی کو دور کر دیتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسلام نے رہبانیت کو نہیں رکھا۔غرض کامل شفیع و ہی ہو سکتا ہے جس میں یہ دونوں حصے کامل طور پر پائے جائیں۔چونکہ یہ ایک ضروری امر تھا کہ شفیع ان دونوں مقامات کا مظہر ہو۔اللہ تعالیٰ نے ابتدائے آفرینش سے 313