نُورِ ہدایت — Page 315
کہ ان کے بعد قوم کی حالت بہت بگڑ گئی اور روحانیت سے بالکل دُور جا پڑی۔ہاں! سچا شفیع اور کامل شفیع آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں جنہوں نے قوم کو بت پرستی اور ہر قسم کے فسق و فجور کی گندگیوں اور ناپاکیوں سے نکال کر اعلی درجہ کی قوم بنا دیا اور پھر اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہر زمانہ میں آپ کی پاکیزگی اور صداقت کے ثبوت کے لئے اللہ تعالی نمونہ بھیج دیتا ہے۔الحکم جلد 6 نمبر 10 مورخہ 17 مارچ1902ءصفحہ5،4) مامور من اللہ کی دُعاؤں کا گل جہان پر اثر ہوتا ہے اور یہ خدا تعالیٰ کا ایک بار یک قانون ہے جس کو ہر ایک شخص نہیں سمجھ سکتا۔جن لوگوں نے شفیع کے مسئلہ سے انکار کیا ہے انہوں نے سخت غلطی کھائی ہے۔شفیع کو قانونِ قدرت چاہتا ہے۔اس کو ایک تعلق شدید خدا تعالیٰ سے ہوتا ہے اور دوسر امخلوق سے مخلوق کی ہمدردی اس میں اس قدر ہوتی ہے کہ یوں کہنا چاہئے کہ اس کے قلب کی بناوٹ ہی ایسی ہوتی ہے کہ وہ ہمدردی کے لئے جلد متاثر ہو جاتا ہے۔اس لئے وہ خدا سے لیتا ہے اور اپنی عقد ہمت اور توجہ سے مخلوق کو پہنچاتا ہے اور اپنا اثر اس پر ڈالتا ہے اور یہی شفاعت ہے۔انسان کی دُعا اور توجہ کے ساتھ مصیبت کا رفع ہونا یا معصیت اور ذنوب کا کم ہونا یہ سب شفاعت کے نیچے ہے۔تو جہ سب پر اثر کرتی ہے خواہ مامور کو اپنے ساتھ تعلق رکھنے والوں کا نام اور ( پتہ ) بھی یاد ہو نہ ہو۔الحکم جلد 6 نمبر 11 مورخہ 24 / مارچ 1902 ، صفحہ 6) یہ ہرگز نہ سمجھنا چاہئے کہ شفاعت کوئی چیز نہیں۔ہمارا ایمان ہے کہ شفاعت حق ہے اور اس پر یہ نص صریح ہے : صَلِّ عَلَيْهِمْ اِنَّ صَلوتَكَ سَكَن لَّهُمْ (التوبة 103) سَكَن لَّهُمْ یہ شفاعت کا فلسفہ ہے یعنی جو گناہوں میں نفسانیت کا جوش ہے وہ ٹھنڈا پڑ جاوے شفاعت کا نتیجہ یہ بتایا ہے کہ گناہ کی زندگی پر ایک موت وارد ہو جاتی ہے اور نفسانی جوشوں اور جذبات میں ایک برودت آجاتی ہے۔جس سے گناہوں کا صدور بند ہو کر ان کے بالمقابل نیکیاں شروع ہو جاتی ہیں پس شفاعت کے مسئلہ نے اعمال کو بیکار نہیں کیا بلکہ اعمال حسنہ کی 315