نُورِ ہدایت — Page 294
یورپ پر اپنی دھاک بٹھائے رکھی۔بڑے بڑے مشہور پادریوں نے سپین میں آ کر مسلمانوں سے علوم وفنون سیکھے۔اگر چہ ظاہری طور پر یا سیاسی لحاظ سے مسلمانوں کا اقتدار سپین کے خطہ ہی پر تھا لیکن حقیقت میں ان کی حکومت سارے یورپ کے ذہن پر اور سارے یورپ کے دل پر تھی لیکن بعض یہودی مسلمانان اندلس کی صفوں میں داخل ہوئے اور مسلمانوں کی عبرتناک تباہی کا باعث بنے۔شروع میں اُنہوں نے مسلمانوں سے کتابی علوم سیکھے کیونکہ اسلامی علوم سیکھنے کے لئے ایمان لانے کی شرط نہیں ہے۔اب عام آدمی بھی مسلمان ہوئے بغیر اپنے ذہن اور حافظہ کی مدد سے اسلامی علوم کے ظاہری حصہ پر حاوی ہوسکتا ہے البتہ کتاب مکنون والے حصے میں جا کر حقیقی نیک اور ظاہری نیک میں عقل و فکر اور غور تدبر کرنے والے فرق کر لیتے ہیں۔بہر حال یہ لوگ دشمنی کی نیت سے اسلام میں داخل ہوئے ظاہری علوم سیکھ کر حضرت مولانا‘ بن بیٹھے اور پھر اندر ہی اندر وہ فتنہ بپا کیا کہ چشم فلک نے شاید ہی پہلے کبھی دیکھا ہو۔مگر ایمان رکھنے والے اللہ تعالیٰ سے محبت کا دم بھرنے والے مسلمانوں نے اُس وقت اپنی اس عظیم ذمہ داری کو فراموش کر دیا کہ اللہ تعالیٰ نے بڑے اعتماد سے فرمایا تھا کہ مجھے اور میرے مومن بندوں کو یہ منافق دھوکا نہیں دے سکتے۔مگر مسلمانان اندلس نے ایسے منافقوں کے فتنوں سے بچنے کے لئے ہوشیاری اور بیدار مغزی کا ثبوت نہ دیا۔دراصل ایک منافق کا ایک بہت بڑا حربہ یہ ہوتا ہے کہ وہ شیطان بن کر ایک آدمی کے پاس چلا جاتا ہے اور اس کو کہتا ہے کہ دیکھو آپ اتنے نیک اور بزرگ اور یہ اور وہ ہیں اور خلیفہ وقت کتنا ظالم ہے کہ اس نے پبلک میں آپ کو جھاڑ دیا حالا نکہ آپ کو تو اللہ تعالیٰ نے بڑی عقل دی ہے آپ بڑے بزرگ ہیں۔اگر وہ آدمی بد بخت ہے تو وہ اس کے دھوکے میں آجاتا ہے۔لیکن اگر اس آدمی پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سایہ ہے تو وہ آگے سے اسے جواب دیتا ہے کہ تم غلطی سے میرے دروازے پر آگئے ہو تمہیں کسی اور طرف جانا چاہیے تھا۔مجھے تو یہ پتہ ہے کہ جس طرح خدا تعالی کو کبھی نہ نیند آتی ہے اور نہ کبھی اونگھ اور نہ ہی کبھی اس پر غفلت طاری ہوتی ہے میں بھی ظلی طور پر خدا تعالیٰ کی ان صفات سے متصف ہونے کی حیثیت میں ہوشیار 294