نُورِ ہدایت — Page 293
قرآن کریم نے امراض قلوب پر متعدد جگہ روشنی ڈالی ہے۔دل کی ایک مرض نہیں ہوتی بلکہ متعدد امراض ہیں جس طرح جسم کی بھی ایک مرض نہیں انسان مختلف قسم کی غلطیاں کرتا رہتا ہے۔صبح ایک قسم کی غلطی کر بیٹھتا ہے اور شام کو دوسری قسم کی غلطی کا مرتکب بن جاتا ہے ہر مرض کا تعلق انسان کے کسی نہ کسی غلط اقدام سے ہے انسان کی کسی نہ کسی غلط روش کے نتیجہ میں مرض لاحق ہوتی ہے اور ان آیات میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔۔۔۔بہر حال منافق کی دوسری علامت یہ بتائی کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے مومن بندوں کو تو دھوکا دینا چاہتا ہے مگر اس کا اپنا یہ حال ہے کہ ہر قسم کی روحانی بیماریوں میں مبتلا ہے۔منافقت نے اس کے درخت وجود کو پراگندہ کر کے رکھ دیا ہے اس کا جسم ایک آتشک زدہ کے جسم کے مشابہ ہے۔جس طرح آتشک وغیرہ کے مریض کے اعضاء گلنے سڑنے لگ جاتے ہیں اس صورت میں وہ انسانی جسم کہلانے کا مستحق نہیں رہتا بلکہ عفونت اور گندگی کے ایک لوتھڑے کا مصداق بن جاتا ہے اسی طرح منافق بھی روحانی طور پر گندگی اور ناپاکیزگی اور عدم طہارت کی وجہ سے ایک لوتھڑا ہی ہوتا ہے وہ حقیقی معنوں میں انسان کہلانے کا مستحق نہیں ہوتا حالانکہ وہ انسان کے زمرہ میں شامل ہے اور انسان کو تو اللہ تعالیٰ نے لامحدود روحانی ترقیات کے لئے پیدا کیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس گروہ کی تیسری بیماری یا کمزوری یہ بتائی ہے کہ یہ اپنے آپ کو مصلح سمجھتے ہیں یعنی یا تو اپنی جہالت کے نتیجہ میں خود ہی مصلح بنے پھرتے ہیں اور یا پھر شرارت کی نیت سے ایک مصلح کا روپ دھار لیتے ہیں۔بہر حال وہ ایک مصلح کے لباس میں امت مسلمہ میں ، رہتے ہیں اور اسے اندر ہی اندر سے کھوکھلا کر دینے کے لئے منافقانہ کارروائیوں میں سرگرداں رہتے ہیں۔چنانچہ ہماری تاریخ میں اس قسم کی منافقانہ سرگرمیوں کی ایک نہیں، دو نہیں۔بلکہ بیسیوں مثالیں پائی جاتی ہیں کہ بعض یہودی مسلمان علماء کی شکل میں مسلم معاشرہ کے جزو بن کر تباہی و بربادی پھیلاتے رہے۔سپین میں مسلمانوں کی صدیوں تک حکومت رہی اور ایک وقت تک ان کے رعب اور ان کے علم و فضل اور ان کے اخلاق فاضلہ نے سارے 293