نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 295 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 295

اور بیدار ہوں تم میرے پاس کیا لینے آگئے ہو۔ہماری جماعت میں ایسے دس ہیں ، سو دو سو واقعات سال میں رونما ہو ہی جاتے ہیں۔مجھے اطلاع ملتی رہتی ہے۔لکھا ہوتا ہے کہ میرے پاس منافق آیا تھا اور میں نے اسے یہ جواب دیا ہے۔لیکن جن پر غفلت طاری ہوتی ہے یا جن کی حالت ایمان اور نفاق کے درمیان ہوتی ہے دل اور دماغ اور روح میں کچھ روحانی کمزوری ہوتی ہے۔جن کو اللہ تعالیٰ نے منافق نہیں قرار دیا بلکہ فرمایا ہے کہ یہ کمزوری ایمان رکھنے والے ہیں دل کی ساری امراض کو نفاق نہیں کہا اگر چہ یہ امراض نفاق کا حصہ ضرور ہیں لیکن ان کو گلیۂ نفاق بھی نہیں کہہ سکتے کیونکہ اگر کسی کے دل میں ایک فیصدی نفاق ہے تو وہ منافق نہ ہوا مگر اس کی حالت خطرہ سے باہر بھی نہیں ہوتی۔ایسے شخص کی اصلاح اور تربیت آسانی سے کی جاسکتی ہے۔پس منافق مصلح کے لباس میں دوست اور ہمدرد کی حیثیت سے لوگوں کے پاس جاتے اور ان کے ایمان کے اندر رخنہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ رخنہ ابتدا میں سوئی کے ناکے کے برابر ہوتا ہے بظاہر بالکل معمولی سا نظر آتا ہے لیکن اندر سے گند کا ایک لوتھڑا بن جاتا ہے مثلاً آج کل سیب کا پھل عام ہے آپ نے دیکھا ہوگا بعض کیڑے سیب پر حملہ آور ہوتے ہیں پ ایک سیب اُٹھائیں اس پر سوئی کے ناکے کے برابر داغ نظر آئے گا اور جب اسے عولیں گے تو دیکھیں گے کہ اندر موٹی موٹی سونڈیاں پھر رہی ہوں گی حالانکہ اس سیب پر بظاہر سُوئی کے ناکے سے زیادہ سوراخ نظر نہیں آئے گا۔۔۔۔۔۔۔اللہ تعالی نے ہمیں ان آیات میں یہ بتایا ہے کہ منافق ایک مصلح کے روپ میں تمہارے سامنے آئے گا جب کبھی وہ تمہارے سامنے اس روپ میں آئے تو ہم تمہیں ایک جواب سکھاتے ہیں وہ جواب تم اس کو دے دیا کرو تم اس سے کہہ دیا کرو کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔آلا إنّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ تم اصلاح کا جو بھی جامہ پہنو ہم تمہیں پہچانتے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کی یہ آواز ہمارے کانوں میں گونج رہی ہے کہ تم ہی مفسد ہو۔تمہارا مصلح کے روپ میں ہمارے 295