نُورِ ہدایت — Page 277
کرے گا اور اسے کچھ نہ دے گا۔اگر انسان کسی کو کپڑا دے اور وہ وہیں اس کے سامنے چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دے یا کھانے کی چیز دے اور وہ کتے کے آگے پھینک دے۔یا دودھ دیا اور اس نے پھینک دیا اور انعام کی بے قدری کی تو پھر اسے انعام دینے کو جی نہیں چاہتا اور انسان پھر دوبارہ اس پر انعام نہیں کرے گا۔انسان تو اگر انعام کی بے قدری ہوتے دیکھے تو جس پر انعام کرے اس سے سب انعام چھین لیتا ہے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے انعاموں کی بے قدری کرے تو اللہ تعالیٰ چونکہ رب العالمین ہے ( ہمارے تو حوصلے پست ہوتے ہیں اس لئے سب انعام اس سے چھین لیتے ہیں ) اللہ تعالیٰ جس نعمت کی ناقدری دیکھے وہی اس سے چھینتا ہے اور صرف اس کی سزا دیتا ہے جس کا خلاف ہو۔انعامات دو قسم کے ہوتے ہیں جسمانی اور روحانی۔جسمانی انعامات میں سے آنکھ کو لے لو۔جو شخص کہ آنکھ سے کام نہ لے اور اسے استعمال میں نہ لائے تو آنکھ نا کارہ ہو جاتی ہے اور تباہ ہو جاتی ہے پھر وہ کبھی کام نہیں دے سکتی۔۔بعض ہندولوگ ہاتھوں کو سکھا دیتے ان سے کام نہیں لیتے اور ان کو یو نہی کھڑا رکھتے ہیں تو وہ ہاتھ سوکھ کر نکھے ہو جاتے ہیں۔غرض انسان جس عضو سے کام لیوے وہ ترقی کرتا ہے اور جسے بیکار چھوڑ دے وہ نکما ہو جاتا ہے۔جس طرح انسان کے اعضاء کے ساتھ معاملہ ہے ایسے ہی روحانی اعضاء کا معاملہ ہے۔ہر ایک عضو کے دوکام ہوتے ہیں روحانی اور جسمانی۔اگر کوئی آدمی عقل سے کام نہ لے تو اس کی عقل ماری جاتی ہے اور جو حافظہ سے کام نہ لے اس کا حافظہ نکما ہو جاتا ہے۔ایسے ہی جو شخص دانائی سے کام نہ لے تو اس کا بھی یہی حال ہو گا۔اسی طرح اگر کوئی شخص قرآن کریم کو نہ پڑھے اور اگر وہ قرآن کریم کی ایک آیت کو بھی غور سے نہ دیکھے اور اسے سمجھنے کی کوشش نہ کرے تو وہ روحانی معاملات کے سمجھنے سے قاصر رہتا ہے۔ایسے لوگ جو قرآن کریم کے سمجھنے میں اپنے افکار سے کام نہ لیں اور اس کو سمجھنے کی کوشش نہ کریں تو ایسے لوگوں کے دلوں پر مہر ہو جاتی ہے اور وہ کچھ سمجھ نہیں سکتے۔اور جس طرح ظاہری اعضاء کو کام میں نہ لایا جائے تو وہ بے کار ہو جاتے ہیں ایسے ہی ان کی دل کی آنکھوں پر پردے پڑ جاتے ہیں اور ان کے دل کی بینائی ماری جاتی ہے اور بالکل 277