نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 278 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 278

ضائع ہو جاتی ہے۔اور ان کے کانوں میں بوجھ پڑ جاتے ہیں وہ کچھ نہیں سن سکتے اور ان کو سزادی جاتی ہے اور انہیں سخت عذاب ہوگا۔اور جو ایمان لے آتا ہے اور ماننے اور ہدایت کو قبول کرنے کے لئے تیار رہتا ہے اسے تو اور زیادہ انعام ملتے ہیں اور وہ کامیاب و مظفر ومنصور ہوتا ہے۔اور جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناقدری کرتا ہے اور وہ کفر کرتا ہے تو اس سے وہ نعمتیں چھین لی جاتی ہیں اور اسے عذاب ملتا ہے۔( خطبات محمود سال 1914ء صفحہ 29 تا32) وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُمُ مُؤْمِنِينَ حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے خطبہ جمعہ فرمودہ 13 فروری 1914ء میں سورہ بقرہ کے رکوع دوم کا ایک حصہ پڑھ کر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کا ذکر پہلے رکوع میں بیان فرمایا ہے جو قرآن کریم کے نزول کے وقت ہوئے تھے۔ایک وہ گروہ جوایمان لے آئے اور دوسرا گروہ جنہوں نے نہ مانا۔پھر ان کا نتیجہ بیان فرمایا اور بتلایا کہ ان کو کیا اجر ملے گا۔فرمایا کہ جنہوں نے مان لیا وہ تو کامیاب اورمظفر اور منصور ہو گئے اور جنہوں نے نہ مانا ، ان کو عذاب عظیم ہوگا اور وہ تباہ ہو جائیں گے۔اب فرمایا کہ ایک گروہ اور بھی ہے جو ان دونوں گروہوں میں سے اپنے آپ کو الگ بتاتا ہے۔مگر قرآن کریم نے ان کو دوسرے گروہ میں شامل کیا ہے۔وہ اپنے مونہوں سے کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ، ہم نے اللہ کو مان لیا اور یوم آخرت کو بھی مانتے ہیں لیکن درحقیقت وہ مومن نہیں۔ان کا اندرون و بیرونہ ایک نہیں ہے۔وہ منہ سے کچھ کہتے ہیں اور ان کے دلوں میں گند بھرا ہوا ہے۔ایسے لوگوں کا منہ سے اور اقرار کرنا نفع رساں نہیں ہے۔اور یہ مومن نہیں ہیں بلکہ یہ بھی منکرین میں سے ہیں اور انہی میں شامل ہیں۔ایسوں کی اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔تو یہ ایک تیسرا گروہ پیدا ہو گیا۔وہ اپنے منہ سے ایمان کا اقرار کرتے ہیں اگر ان کے 278