نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 276 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 276

لا يُؤْمِنُونَ خَتَمَ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عظیم - کی تلاوت کی اور فرمایا: دنیا میں دو ہی قسم کے آدمی ہوتے ہیں۔ایک تو وہ لوگ ہیں کہ وہ کسی چیز کا انکار کریں تو اپنی کم علمی کی وجہ سے کرتے ہیں اور جب ان کو کوئی خوبی ، کوئی نیکی اچھی طرح سے سمجھادی جاوے تو وہ مان لیتے ہیں۔دوسرا گروہ وہ لوگ ہیں جو کہ کسی بات کا انکارا اپنی کم علمی کے سبب سے نہیں کرتے بلکہ وہ ایک بغض اور ضد، تعصب اور ہٹ دھرمی کے سبب سے انکار کرتے ہیں۔جولوگ کہ کم علمی کی وجہ سے انکار کرتے ہیں ان کو سمجھانا بالکل آسان ہوتا ہے اور وہ ہدایت کے بالکل قریب ہوتے ہیں۔اور دوسرا فریق جو تعصب اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے انکار کرتے ہیں ان کے لئے سمجھانا کبھی بابرکت نہیں ہو سکتا اور وہ ہدایت نہیں پاسکتے۔ہر ایک نبی کے وقت میں ایسے گروہ پیدا ہوتے رہے ہیں۔ایسے لوگ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسرں کے لئے بھی گمراہی کا موجب بنتے ہیں۔۔۔۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا دو گروہوں میں سے جولوگ کہ کسی بے علمی کی وجہ سے انکار کرتے ہیں اور جب علم ہو گیا تو مان لیتے ہیں ایسے لوگ کامیاب ہوں گے۔اور جولوگ کہ ضد اور تعصب اور ہٹ دھرمی کو کام میں لاتے ہیں ایسے لوگوں کو تیرا ڈ رانا یا نہ ڈرانا برا بر ہے، ایسے لوگ ہدایت نہیں پاسکتے۔خدا تعالیٰ بڑا غیور ہے۔بہت سے انسان باغیرت ہوتے ہیں۔انسان کی فطرت میں غیرت کے سمجھانے کے لئے یہ رکھا ہے کہ انسان جب کسی کے ساتھ کوئی احسان کرے یا کسی پر خوش ہو کر اس کو انعام دے اور آگے اس کی بے قدری ہو تو اس سے انعام لے لیتا ہے اور پھر اس کو انعام نہیں دیتا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَئِن شَكَرْتُمْ لأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ۔(ابراهیم : 8) تم اگر میری نعمتوں کی قدر کرو گے تو میں تم پر انعام زیادہ کروں گا۔یہاں تاکید فرمائی ہے کہ میں ضرور تمہاری نعمتوں کو زیادہ کروں گا۔یہ فطرت انسانیہ سمجھاتی ہے۔ہر ایک انسان اپنے نفس میں سمجھ سکتا ہے کہ اگر وہ کسی پر انعام کرے اور وہ آگے سے انعام کی بے قدری کرے تو پھر انسان اس پر کبھی انعام نہ 276