نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 268 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 268

ہے اور مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے استہزاء کی انہیں سزا دے گا۔استہزاء جھوٹ کو کہتے ہیں۔یعنی کہا کچھ جائے اور اصل میں کچھ اور مراد ہو۔اور اس سے مخاطب کی تذلیل مراد ہو۔مگر اللہ تعالیٰ کی نسبت قرآن کریم میں آتا ہے وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللهِ قِيلًا (نساء 123) یعنی اللہ تعالیٰ سے سچا اور کون ہوسکتا ہے۔اسی طرح ہنسی مذاق کرنے والاشخص لغو گو ہوتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کا نام قرآن کریم حکیم رکھتا ہے۔یعنی جس کی ہر بات میں حکمت پوشیدہ ہوتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی نسبت استہزاء کا لفظ محض ان معنوں میں استعمال ہوا ہے کہ وہ منافقوں کو ان کے استہزاء کی سزا دے گا۔حملا ان معنوں کے علاوہ یہ امر بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی نسبت جو لفظ استعمال ہو وہ ان معانی سے جدا ہو جاتا ہے جو بندہ کی نسبت استعمال ہونے کی صورت میں اس میں پائے جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی نسبت بولنے کا لفظ بولا جائے تو یہ معنی نہیں کہ اس کی زبان اور ہونٹ ہیں جن کو اس نے بلایا۔بلکہ صرف یہ معنے ہیں کہ بولنے کا جو نتیجہ ہوتا ہے یعنی الفاظ کا پیدا ہونا وہ اس نے اپنی قدرت سے پیدا کر دیا۔اللہ کی نسبت آتا ہے۔لَيْسَ كَمِثْلِه شنی (شوری12) پس اس تاویل کے رُو سے اللہ تعالیٰ کے استہزاء کرنے کے یہ معنے ہوں گے کہ استہزاء کا نتیجہ اس نے ان کے حق میں پیدا کر دیا۔یعنی انہیں ذلیل کر دیا اور لوگوں کی نظروں میں قابل مضحکہ بنادیا۔وَيَمدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمُ يمد مد سے نکلا ہے جس کے معنے مہلت دینے کے ہیں۔پس اس آیت کے یہ معنے ہوئے کہ باوجود ان کی شرارتوں کے خدا تعالیٰ ان کو مہلت دیتا ہے کہ وہ سنبھل جائیں مگر وہ طغیان میں بڑھتے جاتے ہیں۔یہ معنے نہیں کہ اللہ تعالیٰ کفار کو طغیان میں زیادہ کرتا ہے۔اس بات کو سورۃ فاطر ر کو ع 4 میں خوب حل کر دیا ہے کہ مہلت گمراہ کرنے کے لئے نہیں دی جاتی بلکہ اس لئے کہ جو چاہیں اس عرصہ میں تو بہ کرلیں۔أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَلَةَ بِالْهُدَى فَمَا رَبِحَتْ تِجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ اشْتَرَوُا الضَّللة بالھدی کے ایک معنے تو یہ ہیں کہ ان لوگوں نے ہدایت دے کر گمراہی کو 268