نُورِ ہدایت — Page 267
حالانکہ اگر جانتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ یہ اس طریق عمل سے اپنے مالوں اور جانوں کو خطرہ میں ڈال رہے ہیں۔وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَى شَيْطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِؤُونَ ہر شخص جو حق سے دور ہو یا بغض و کینہ سے جل رہا ہو یا سرکش اور باغی ہوشیطان کہلاتا ہے اس آیت کے مضمون سے ظاہر ہے کہ شیطان کا لفظ قرآن کریم میں یقینی طور پر انسان کے لئے بھی استعمال ہوا ہے۔اس آیت میں شیطاطین سے مراد کفار اور منافقین کے سردار ہیں جو کبر اور نخوت کے باعث خدا تعالیٰ کے دین سے دور اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہونے سے نفور رہتے تھے اور دوسرے زیر اثر لوگوں کو بھی صراط مستقیم کی طرف نہیں آنے دیتے تھے۔شیطان سے یہاں ابلیس مراد لینا صحیح نہیں اور نہ اس لفظ کے استعمال سے یہود اور مسیحیوں کے رؤساء کو گالی دی گئی ہے۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں الراكب شَيْطَانٌ وَالرَّاكِبَانِ شَيْطَانَانِ وَالخَلَقَةُ رَكب یعنی سفر کی مصیبتوں کی صورت میں اکیلا سفر کرنے والا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے والا ہے۔دوکا بھی یہی حال ہے۔تین ہوں تو مشکلات سے بچ سکتے ہیں۔شیطان کے جومعنے میں نے کئے ہیں وہ صحابہ اوراکابر علماء سے بھی ثابت ہیں۔اللهُ يَسْتَهْزِى هِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ اللہ تعالیٰ ان سے استہزاء کرے گا کے یہ معنے نہیں جیسا کہ بعض معترضین قرآن کریم نے سمجھا ہے کہ نعوذ باللہ مسلمانوں کا خدا استہزاء کرتا ہے۔بلکہ اس جگہ جزائے جرم کے لئے جرم کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں جو عربی زبان کا عام قاعدہ ہے اور قرآن کریم میں مستعمل 267