نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 264 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 264

سے جدا ہو جائے ، نہ کہ اس میں رہ کر اس میں فساد پیدا کرنے کی کوشش کرے۔اس آیت کے آخر میں منافقوں کے اندر شعور کی کمی بتائی ہے کیونکہ نفاق دل سے تعلق رکھتا ہے اور قوتِ شعور ہی سے اس کا پتہ لگایا جاتا ہے۔اگر منافق ظاہری تو جیہوں کی بجائے اپنے دلوں کو پڑھنے کی کوشش کریں تو انہیں معلوم ہو جائے کہ ان کے اعمال اصلاح کے خیال سے نہیں بلکہ بزدلی اور جماعت سے اختلاف رکھنے کے باعث ہیں اور اس طرح ان کو اپنی بیماری کا علم ہو جائے۔مگر وہ اپنے دل کے خیالات کو بھی صحیح طور پر پڑھنے کی کوشش نہیں کرتے اور اس طرح دوسروں کو دھوکہ دینے کی بجائے اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں۔وَإِذَا قِيْلَ لَهُمْ آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ قَالُوا أَنُؤْمِنُ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاءُ الا إنّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلكِن لَّا يَعْلَمُونَ۔سفية کے معنے ہیں (1) خفیف العقل (2) جاہل (3) جس کی رائے میں اضطراب ہو۔استقامت نہ ہو (4) ایسا شخص جو دینی و دنیوی عقل عمدہ نہ رکھتا ہو (5) جس کی رائے کی کچھ قیمت نہ ہو (6) جو شخص اپنی قیمتی اشیاء کو بے سوچے خرچ کردے۔لا يَعْلَمُونَ : عَلِمَ سے مضارع منفی جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے۔اور عَلِمَهُ (يَعْلَمُهُ) کے معنى تَيَقنَهُ وَعَرَفَةَ کسی چیز کا یقین کر لیا اور اس کو جان لیا۔جب سمجھنے کے معنوں میں استعمال ہو تو اس وقت اس کے دو مفعول آئیں گے اور اگر معرفت کے معنوں میں استعمال ہو تو ایک۔علم الآمر کے معنے ہیں اتقنه کسی کام کو مضبوط کیا۔عَلِمَ الشَّيْءَ وَ بِالشَّنِي شَعَرَبِهِ وأحاطه واخرگه کسی چیز کی پوری واقفیت حاصل کر لی۔اس کی حقیقت کا احاطہ کر لیا۔اس کا پورا علم حاصل کر لیا۔اور الْعِلْمُ کے معنے ہیں ادْرَاكُ الشَّيي يحقیقته کسی چیز کی حقیقت کو معلوم کر لینا ( اقرب ) پس لا يَعْلَمُونَ کے معنے ہوں گے وہ حقیقت کو نہیں جانتے۔آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب مسلمان ان منافقوں سے کہتے ہیں کہ جس طرح دوسرے شریف آدمی ایمان لائے ہیں اور اپنے عہد کے پکے ہیں تم بھی اسی طرح ایمان لاؤ۔264