نُورِ ہدایت — Page 265
یہ کیا کہ کبھی ادھر اور کبھی ادھر۔دل میں کچھ اور زبان پر کچھ۔تو منافق اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ جن لوگوں کی طرح ایمان لانے کا تم ہم کو مشورہ دیتے ہوں وہ تو کم عقل ہیں اور اپنی جانوں اور مالوں کو بے دریغ لٹا رہے ہیں۔کیا تم چاہتے ہو کہ ہم بھی ان کی طرح بے عقل ہو جائیں۔ایک مٹھی بھر آدمی ہیں اور ساری دنیا سے مقابلہ شروع کر رکھا ہے۔ان کو چاہئے تھا کہ سمجھ سے کام لیتے اور سب سے تعلقات بنا کر رکھتے جس طرح ہم سب سے تعلق بنا کر رکھتے ہیں۔حل لغات میں بتایا جا چکا ہے کہ سفیہ جس کی جمع سُفَهَاءُ ہے سَفَہ سے نکلا ہے اور اس کے معنے قلت عقل کے بھی ہوتے ہیں۔اور بے دریغ اپنے اموال کو لٹانے کے بھی ہوتے ہیں۔قرآن کریم میں بھی یہ محاورہ استعمال ہوا ہے۔چنانچہ آتا ہے وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاء أمْوَالَكُم (نساء (6) اپنے مال ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں نہ دو جوان کو خرچ کرنا نہ جانتے ہوں اور ان کو ضائع کر دیں۔منافقوں کا مسلمانوں کو سُفَهَاء کہنا انہی معنوں میں ہے۔ان کا خیال تھا کہ یہ لوگ نہ اپنی جانوں کی حفاظت کر سکتے ہیں نہ اپنے مالوں کی اور یونہی بے سوچے سمجھے اپنی جانیں ضائع کر رہے ہیں اور مال لٹا رہے ہیں۔لیکن ہم ہوشیار ہیں۔ہم مسلمانوں کے ساتھ بھی بنا کر رکھتے ہیں اور کفار سے بھی۔اس طرح ہم دونوں طرف کے خطروں سے محفوظ ہیں۔سفية سے مراد منافقوں کی یہ ہے کہ مسلمان اپنی جانوں اور مالوں کو بے سوچے سمجھے برباد کر رہے ہیں اور ہم اپنی جانوں کی حفاظت کرتے ہیں اور اپنے مالوں کو بچا رہے ہیں۔یہ اعتراض ہمیشہ بڑھنے والی قوموں پر ہوتا ہے۔جب بھی خدا تعالیٰ کسی قوم کو بڑھانا چاہتا ہے ایسے ہی حالات میں بڑھاتا ہے کہ باوجود اس کے کہ جو قوم کمزور اور بے سامان ہوتی ہے وہ اسے بے دریغ قربانی کا حکم دیتا ہے جو منافقوں اور دشمنوں کی نظر میں ایک لغو فعل نظر آتا ہے۔کیونکہ وہ قربانی کی قیمت نہیں جانتے۔ہاں جب کامیابی حاصل ہو جاتی ہے تو ان کی اولاد کہتی ہے کہ یہ کامیابی غیر معمولی نہیں اس کا سبب یہ تھا کہ مومن قربانی کرتے تھے اور ان کے مخالف غافل تھے۔گویا پہلے ان کے آباء اور رنگ کا اعتراض کرتے ہیں اور اولاد بالکل الٹ قسم 265