نُورِ ہدایت — Page 263
ہم تو صرف اصلاح کے خاطر یہ سب کام کرتے ہیں۔یہ بھی منافقوں کی ایک علامت ہے کہ اپنے گندے اعمال کو چھپانے کے لئے ہمیشہ اپنے اعمال کے لئے کوئی نہ کوئی ایسا بہانہ بنا لیتے ہیں کہ جس سے ان کے اعمال بظاہر نیک نظر آئیں۔کسی موقعہ پر غریبوں کی امداد کا بہانہ۔کسی موقعہ پر مسلمانوں کو تباہی سے بچانے کا بہانہ۔غرض اپنی بدنیتی کو نیک نیتی کے پردہ میں چھپانے کی کوشش ہمیشہ ان کی طرف سے ہوتی رہتی ہے۔اور اگر وہ یہ نہ کریں تو اپنے نفاق کو چھپائیں کس طرح۔ہر قوم اور ہر ملک کے منافق اسی طرح کرتے ہیں۔اور جن قوموں کی تباہی کے دن آ جاتے ہیں وہ ان کے دھوکے میں آکر بچے خیر خواہوں کو چھوڑ دیتی ہیں۔مگر اللہ تعالیٰ نے صحابہ کو ان کے دھوکے سے بچایا اور ان کی شرارتیں انہی کے سروں پر الٹ پڑیں۔منظم جماعتوں میں منافقوں کا گروہ ضروری ہوتا ہے۔کیونکہ جب تنظیم نہ ہو تو منافقت کرنے کی ضرورت کم ہی ہوتی ہے لیکن جب ایک جماعت منظم ہو تو اسے چھوڑ نا کمزور دل لوگوں کے لئے مشکل ہو جاتا ہے۔اس لئے وہ ایک طرف تو اپنی جماعت سے بھی تعلق بنائے رکھتے ہیں اور دوسری طرف خفیہ خفیہ اس کے مخالفوں سے بھی ساز باز شروع کر دیتے ہیں۔جماعت احمد یہ چونکہ ایک منظم جماعت ہے اسے اس خطرہ کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے۔منافقوں کا وجود اس میں پایا جانا اس کی کمزوری کی علامت نہیں بلکہ اس کی تنظیم کا ثبوت ہے۔ہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ منافقوں کی چالوں کو جو قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں سمجھے اور انہیں مد نظر رکھ کر منافقوں کو پہچانے اور ان سے وہی معاملہ کرے جو قرآن کریم نے تجویز کیا اور ان کے ہتھکنڈوں میں نہ آئے کہ وہ شیطان کی طرح خیر خواہ بن کر ہی حملے کیا کرتے ہیں۔الا انهم هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَكِن لَّا يَشْعُرُونَ پہلے ثابت کیا جا چکا ہے کہ منافق قسم قسم کے فساد کرتے تھے مگر اپنے مفسدانہ اعمال کی کوئی نہ کوئی نیک توجیہ پیش کر دیا کرتے تھے۔لیکن نیک توجیہ بُرے کام کو اچھا نہیں بنا دیتی۔اگر کوئی شخص کسی جماعت کے نظام یا عقیدہ سے خوش نہ ہو تو اس کا فرض ہوتا ہے کہ اس 263