نُورِ ہدایت — Page 240
جائیں اس زمانہ میں نماز کی ضرورت بڑھ جاتی ہے، نہ کہ کم ہو جاتی ہے۔اگر نما ز صرف ایک اظہار عقیدہ کا ذریعہ ہوتا تب یہ اعتراض کچھ وزن بھی رکھتا۔مگر جیسا کہ بتایا گیا ہے نماز کی غرض صرف اقرار عبودیت نہیں بلکہ اس کی غرض تو انسانی نفس میں وہ استعداد پیدا کرنا ہے جس کی مدد سے وہ مادی دنیا سے اڑ کر روحانی عالم میں پہنچ سکے اور اس کا دماغ جسمانی خواہشات میں ہی الجھ کر نہ رہ جائے بلکہ اعلیٰ اخلاق کو حاصل کرے۔جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ (العنكبوت (46) یعنی نماز صرف عبودیت کا اقرار نہیں بلکہ قلب انسانی کو جلا دینے والی شے ہے اور اس کی مدد سے انسان بدیوں اور بد کرداریوں سے بچتا ہے اور اس کا وجود بنی نوع انسان کے لئے مفید بنتا ہے اور وہ ملت وقوم کا ایک فائدہ بخش جزو ہو جاتا ہے۔پس جو عمل کہ یہ خوبیاں رکھتا ہو مادی اشغال کی کثرت کے زمانہ میں اس کی ضرورت کم نہیں ہوتی بلکہ بہت بڑھ جاتی ہے۔اور حق تو یہ ہے کہ اس زمانہ میں بدامنی اور شورش اور نفسانفسی اور قوموں کی قوموں پر چڑھائی کا اصل سبب یہی ہے کہ لوگ سچی عبادت میں کوتاہی کرنے لگے ہیں ورنہ اگر صحیح عبادت کا طریق لوگوں میں رائج ہوتا تو اس دُنیا کو پیدا کرنے والے مہر بان آقا سے اتصال کی وجہ سے بغض اور نفرت کی جگہ محبت اور ایثار اور قربانی کا جذبہ پیدا ہوتا۔وَما رَزَقُهُم يُنفِقُونَ کے معنے یہ ہیں کہ جو کچھ بھی تم کو ہم نے دیا ہو۔خواہ علم ہو، عزت ہو، عقل ہو، مال ہو، دولت ہو، اس میں سے ایک حصہ تم کو خرچ کرنا چاہئے۔پس اس جملہ کے یہ معنے نہیں کہ جو کچھ تم کو کھانے پینے کی اشیاء ملی میں ان میں سے کچھ غریبوں کو بھی کھلاؤ۔کیونکہ نہ تو اس جملہ میں غریبوں کا ذکر ہے نہ اس چیز کی تعیین ہے جسے خرچ کرنا ہے۔اور ہمارا کوئی حق نہیں کہ جن اشیاء کو خدا تعالیٰ نے بغیر حد بندی کے چھوڑ دیا ہے ہم ان کے لئے اپنے پاس سے حد بندی مقرر کریں۔اللہ تعالیٰ اس آیت میں صرف اس قدر فرماتا ہے کہ جو کچھ ہم نے تمہاری ضرورتوں کے مطابق دیا ہے اسے خرچ کرو۔یہ ضرورت کے مطابق ملنے والی چیز علم بھی ہوسکتا ہے۔عقل 240