نُورِ ہدایت — Page 241
بھی ، جرأت بھی، غیرت بھی ، وفا بھی، ہاتھ پاؤں کی خدمت بھی ، آنکھ ناک کی خدمت بھی ، روپیہ پیسہ کی خدمت بھی۔غرض کوئی چیز جس کی نسبت کہا جاسکے کہ خدا تعالیٰ نے دی ہے اور کسی ضرورت کے پورا کرنے کے لئے دی ہے اس کے خرچ کرنے کا حکم ہے۔اور اگر کوئی شخص ایسا ہو کہ روپیہ تو دوسروں کو امداد کے طور پر دیتا ہولیکن مثلاً کھانانہ دیتا ہو یا کھانا دیتا ہو کپڑا نہ دیتا ہو یا کپڑا تو دیتا ہولیکن مکان نہ دیتا ہو یا مکان تو دیتا ہومگر اپنے ہاتھوں سے خدمت نہ کرتا ہو یا ہاتھوں سے خدمت تو کرتا ہو مگر اپنے علم سے لوگوں کو فائدہ نہ پہنچا تا ہو تو وہ اس آیت پر پوری طرح عامل نہ سمجھا جائے گا۔اور اسی طرح اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہی اس آیت پر عامل نہیں جو غریبوں کو روپیہ دیتا ہے بلکہ وہ بھی عامل ہے جولوگوں کو علم پڑھاتا ہے اور وہ بھی عامل ہے جو مثلاً بیواؤں یتیموں کے کام کر دیتا ہے اور وہ سپاہی بھی عامل ہے جو میدانِ جنگ میں ملک کی خاطر جان دینے کی نیت سے جاتا ہے اور وہ موجد بھی عامل ہے جو رات دن کی محنت سے دنیا کے فائدہ کے لئے کوئی ایجاد کرتا ہے۔ہر وہ شخص جو اپنے نفس کے بارہ میں بخل سے کام لیتا ہے اور ضرورت اور صحت کے مطابق کھانا نہیں کھاتا وہ اس حکم کو توڑنے والا ہے خواہ وہ دوسروں پر کس قدر ہی کیوں نہ خرچ کرے کیونکہ یہ آیت یہ نہیں کہتی کہ غریبوں پر خرچ کرو بلکہ یہ آیت خرچ کرنے کے مقام کو ہلا تعیین چھوڑ کر خود انسان کے نفس کو بھی اس میں شامل کرتی ہے اور اس کی بیوی کو بھی اور اس کے بچے کو بھی اور اس کے دوستوں کو بھی۔اس آیت سے یہ بھی استدلال ہوتا ہے کہ خدا کے دیئے ہوئے میں سے کچھ حصہ خرچ کرنے کا حکم ہے نہ یہ کہ سب ہی خرچ کر دے۔حمد اس جگہ یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ تمام مال کا خرچ تو بُرا کہلا سکتا ہے مگر اس آیت میں تو علم اور فہم وغیرہ کے اخراجات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ان چیزوں میں سے کچھ خرچ کرنے کے کیا معنے ہیں؟ کیا انسان اپنا سارا علم لوگوں کو نہ سکھائے یا اپنی عقل سے پوری طرح لوگوں کو فائدہ نہ پہنچائے ؟ 241