نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 201 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 201

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر اس طرح ہوا کہ اس سورت کے بعد اور بھی حصہ قرآن کریم کا آپ پر نازل ہوا اور صحابہ اس کو مان کر گویا اس آیت پر عامل ہو گئے۔آخرةِ اِس کے معنے پیچھے آنے والی بات کے کئے ہیں۔کلام الہی پر گفتگو کرتے ہوئے دکھایا ہے کہ آئندہ مکالمہ الہیہ کی طرف اشارہ ہے۔اب اعمال کے لحاظ سے دیکھا جاوے تو ہر ایک عمل کے بعد جو ایک نتیجہ اس کا ہے اس پر یقین کو ہونا ضروری ہے کیونکہ جب تک انسان کے دل میں یقینی طور پر یہ بات نہ بیٹھ جاوے کہ میرا ہر ایک عمل خواہ اس کا تعلق صرف قلب سے ہے یا اس میں اعضاء بھی شامل ہیں ضرور ایک نتیجہ نیک یا بد پیدا کرے گا اور میری اس عملی تخمریزی پر ثمرات مرتب ہوں گے تب تک گناہ سے رہائی ہر گز ممکن ہی نہیں ہے اور نجز اس علاج کے اور کوئی علاج گناہ کا نہیں۔جب معنی کے اعمال مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ کے موافق اپنے اپنے محل اور موقعہ پر ہوں گے تو اس کی آخرت یہ ہوگی کہ مرتبہ یقین کا اُسے حاصل ہوگا۔البدر 6 فروری 1903 ، صفحہ 23) أولَئِكَ عَلى هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ حمید یہی لوگ ( جن کا اوپر ذکر ہوا) اپنے رب سے ہدایت پر ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو مظفر ومنصور ہوں گے۔اس سے سابقہ آیات میں متقی کی تعریف اور معنے بیان کر کے اب اللہ تعالیٰ نے بطور نتیجہ کے بتلا دیا کہ متقیوں کے لئے اس کتاب سے ہدایت پر ہونے کے یہ معنے ہیں کہ جب انسان ایمان بالغیب رکھ کر اور حقوق الہی اور حقوق العباد کو کما حقہ ادا کر کے اور خدا تعالیٰ کے کلیم ہونے پر ایمان لا کر اپنے اعمال کے نتائج اور ثمرات پر کامل یقین رکھتا ہے تو ہر ایک حجاب ڈور ہو کر اس کو کامیابی نصیب ہوتی ہے اور مشقی کے ہدایت پر ہونے کی یہ ایک دلیل بیان فرمائی ہے کہ اگر وہ کامیاب ہو جاویں تو پھر اُن کی کامیابی ان کے راہ راست پر ہونے کی دلیل ہے۔دعویٰ کر کے دشمن پر ایک خاص غلبہ پانا ایک خاص نشان صداقت کا ہوتا ہے۔201