نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 200 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 200

انکار کرتے ہیں اور خدا کو گونگا مان بیٹھے ہیں (2) وہ جن کا یہ اعتقاد ہے کہ آزمنہ گزشتہ میں خدا ایک حد تک بول چکا مگر آئندہ وہ لوگوں سے یا کسی سے بولتا نہیں (3) جن کا یہ اعتقاد ہے کہ خدا تعالیٰ ہر زمانہ میں کلام کرتا ہے۔تیسری قسم کے لوگ ہی ہمیشہ بامراد اور کامیاب ہوتے رہے ہیں اور ہر ایک مومن کی یہی صفت ہونی چاہئے اور یہی اعتقاد ہے جو کہ اعلیٰ اعلیٰ مراتب اور درجات حاصل کرواتا ہے۔اس کے مخالف جس قدر عقیدے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کو ایک کامل ہستی نہیں مانتے بلکہ انکا اللہ ناقص خدا ہے۔ان کا مذہب ناقص مذہب ہے۔یہ شرف سچے اور زندہ مذہب ہونے کا صرف اسلام ہی کو حاصل ہے اور چونکہ متکلم ازل سے ایک ہی ذاتِ پاک ہے اس لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اصولا ہر ایک زمانہ کے الہام کی تعلیم ایک ہی ہو اور ہر زمانہ کے الہامات ایک دوسرے کے مؤید اور مصدق ہوں۔مکالمہ الہی کے ذکر کا اس مقام پر یہ فائدہ بھی ہے کہ انسان کو حرص پیدا ہوتی رہے کہ خدا مجھ سے بھی کلام کرے۔اور اپنے اعمال کو سنوار کر ادا کرے۔جیسے ایک شخص کو سخی دیکھ کر اس کے پاس سوالی جمع ہو جاتے ہیں کہ ان کو بھی ملے اور جن اعمال سے یہ شرف مکالمہ کا حاصل ہوسکتا ہے ان کو اول بیان فرما دیا ہے کہ وہ سب اعمال ما أُنْزِلَ اليك کے مطابق ہوں۔مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ كو مَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ پر اس لئے مقدم رکھا ہے کہ سب سے مقدم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اشباع ہے۔یعنی وہ مَا اُنْزِل مِن قَبْلِكَ جس كو مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ تصديق کرتا ہے۔یہ نہیں کہ جو رطب و یابس اور ترجمہ در ترجمہ پادریوں وغیرہ کے اپنے خیالات صُحف سابقہ میں ملے ہوئے ہیں ان کو بھی مَا أُنْزِلَ مِن قَبْلِكَ میں شمار کر لیا جاوے۔بلکہ سابقہ اور آئندہ سب کا معیار ما أُنْزِلَ إِلَيْكَ ہے اور اسی لئے بِالآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ سے بھی یہ مقدم ہے۔بالآخِرَةِ کے ساتھ مَا اُنْزِل کا کلمہ استعمال نہیں کیا ہے کیونکہ آئندہ مکالمہ الہی کا جس قدر سلسلہ ہوگا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ہو گا اور مَا اُنْزِلَ النيك سے اس کا وجود الگ نہ ہو گا۔اور چونکہ اس کے ذریعہ سے مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ پر ایک کامل یقین حاصل ہوتا جاوے گا اس لئے آخرة کے ساتھ يُوقِنُونَ کا لفظ رکھا ہے۔اس کا اطلاق خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں خود 200