نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 149 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 149

متعلق ہم کچھ نہیں سوچ سکتے کیونکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے کوئی خبر نہیں آتی۔یک طرفہ راستہ ہے اور واپسی کی ایک بھی راہ نہیں ہے۔نہ بغیر مرئی ریڈی ایشن کے ذریعہ، نہ ہمیں نظر آنے والی روشنی کے ذریعہ، نہ کسی اور شکل مثلاً آواز وغیرہ کی شکل میں۔کوئی خبر پھر وہاں کی نہیں آتی۔مادہ کا ذاتی صفات سے کلیہ مبرا ہونا بالکل وہی چیز ہے جس کو سورۃ فاتحہ نے مَالِكِ يَوْمِ الدین کے حضور حاضر ہونے کا نام دیا ہے۔یعنی ایسی ذات کی طرف لوٹ جانا کہ جب کسی چیز کی کوئی بھی ذاتی صفت باقی نہیں رہے گی۔خدا ہر چیز کا مالک ہوگا اور مخلوق اپنی تمام ذاتی ملکیتوں اور ذاتی صفات سے عاری ہو جائے گی۔گویا اپنے آغا ز کی طرف لوٹ جائے گی اور اسی کا نام عدم ہے۔بغیر صفت کے کسی کے وجود کا تصور ہی نہیں ہوسکتا۔اسی لئے سائنسدان کہتے ہیں کہ عدم کی تعریف ہی یہ ہے کہ کوئی چیز صفات سے کلیۂ عاری ہو جائے۔وہ کہاں کوٹتی ہے؟ اس کے متعلق وہ کچھ نہیں جان سکتے۔وہ شکست کو تسلیم کرتے ہیں اور خواہ انسان اپنی تحقیقات میں کتنی بھی مزید ترقی کرے وہ تصور کر ہی نہیں سکتا کیونکہ حقیقت میں یہ سب چیزیں اپنے رب کی طرف کوٹتی ہیں۔اسی طرح جاندار اپنے رب کی طرف کو ٹتے ہیں۔اسی طرح انسان اپنے رب کی طرف کو ٹتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے صراط مستقیم کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ یہی ہے کہ ہر چیز نے بالآخر ، جب بھی وہ تخلیق کا جامہ پہنتی ہے، سفر کرتے ہوئے ایک منزل تک پہنچنا ہے جو اس کے خالق یعنی مالک یوم الدین کی منزل ہے۔گویا دنیا میں جب بھی کوئی چیز پیدا ہوتی ہے وہ معا ایک سفر شروع کردیتی ہے اور وہ سفر بالآخر خدا کی ذات پر اس طرح منتج ہوتا ہے کہ وہ مالک یوم الدین ہوتا ہے اور ہر چیز اپنی صفات خلقیت سے کلی طور پر عاری ہو کر پہنچتی ہے۔اس سفر کے دور ستے ہیں۔سورۃ فاتحہ کی پہلی تین آیات نے اس سفر کا نقشہ تفصیل سے کھینچا ہے۔گومختصر ہے۔لیکن اگر آپ غور کریں تو حیرت انگیز تفصیل ان چند الفاظ میں ملتی ہے۔الحمد لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِینَ۔اے بنی نوع انسان تم نے بھی آخر وہیں پہنچنا ہے۔اس لئے صراط مستقیم کی 149