نُورِ ہدایت — Page 148
توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ سائنسدانوں کی یہ تحقیق ہے کہ آخر وہ کیا بن جاتے ہیں اور کہاں چلے جاتے ہیں۔اس آخری صورت کے متعلق سائنسدان صرف اتنا ہی بتا سکتے ہیں کہ وہ ہمارے ادراک کی حد سے باہر نکل جاتے ہیں اور یہ کہنے کے باوجود خود بھی نہیں سمجھ سکتے کہ یہ حالت ہے کیا چیز ؟ وہ کہتے ہیں کہ جب بھی یہ ستارے غائب ہوتے ہیں تو ایک ایسے ستارے کی طرف حرکت کرتے ہوئے غائب ہو جاتے ہیں جو پہلے ہی سمٹتے سمٹتے ایک نقطہ کی شکل اختیار کر گیا ہوتا ہے۔گو ہم اپنی اصطلاح میں اس کو نقطہ کہتے ہیں۔لیکن نہیں جانتے کہ وہ نقطہ ہے بھی کہ نہیں۔کیونکہ اس نقطہ کی کوئی خبر باہر کی دنیا کو معلوم نہیں ہوسکتی۔اس کے وجود کا صرف اس طرح پتہ چلتا ہے کہ ارد گرد بعض دفعہ اتنے بڑے فاصلوں پر سے ستارے ڈول کر اس کی طرف آجاتے ہیں کہ جن کا فاصلہ شعاع کی رفتار سے ناپا جائے جو تقریباً ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک سال میں ایک شعاع جتنا فاصلہ طے کرتی ہے اس سے ہزاروں گنا زیادہ فاصلہ کی دوری پر موجو دستارے بھی اس نا قابل فہم نقطہ کی غیر معمولی، بے پناہ کشش ثقل سے مغلوب ہو کر ڈولنے لگتے ہیں اور اپنے مدار سے ٹوٹ کر قوت کے اس مرکز کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور بالآخر اس کی طرف سفر کرتے کرتے اس کے اندر ڈوب کر غائب ہو جاتے ہیں۔اور وہ نقطہ پھر بھی ایک نقطہ ہی بنا رہتا ہے جس کے اندر سورج سے ہزاروں گنا زیادہ مادہ غائب ہونے کے باوجود اس کا کوئی حجم نہیں بڑھتا۔اس کو سائنٹفک اصطلاح میں Event Horizon کہا جاتا ہے اور اس کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ جب دنیا کے سارے قوانین جن کے تابع تخلیق ایک شکل سے دوسری شکل میں تبدیل ہوتی ہے اور وہ تمام صفات جو مادہ کی ذاتی صفات ہیں وہ کلیہ اس مادہ سے الگ ہو جائیں اور مادہ ہر قسم کی ذاتی صفت سے عاری ہو جائے اس کا نام ایوینٹ ہورائزن ہے۔یعنی عدم اور وجود کے درمیان حد فاصل پر ہونے والا واقعہ۔اس موقع پر چونکہ مادہ اپنی ہر صفت سے عاری ہو جاتا ہے اس لئے ہم اس کو عدم کہتے ہیں۔مادہ یہاں پہنچ کر کیا شکل اختیار کر جاتا ہے؟ اس کے 148