نُورِ ہدایت — Page 1173
انسان کے لیے جہاں ترقی اور کامیابی کی راہیں کھلی ہیں وہاں بہت سے سامان اس کی ہلاکت کے بھی ہیں۔اس میں کچھ بھی شک نہیں کہ انسان ترقی کرتے کرتے اعلیٰ سے اعلیٰ مقام پر پہنچ جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کا محب اور دوست ہو جاتا ہے۔وہ خدا کے حضور ایسے مقام پر کھڑا کیا جاتا ہے کہ اس پر وار کرنے والا اس پر وار کرنے کی بجائے خدا پر وار کرنے والا قرار دیا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ اس کے اندر ہوتا ہے۔باہر ہوتا ہے۔آگے ہوتا ہے پیچھے ہوتا ہے۔اوپر ہوتا ہے۔غرض ہر طرف سے وہ خدا کی پناہ میں ہوتا ہے۔اس لیے جب وار کرنے والا اس پر وار کرتا ہے تو اس کا وار اس پر پڑنے کی بجائے خدا کی کسی نہ کسی صفت پر پڑتا ہے۔پس وہ ایسے مقام پر ہوتا ہے کہ خدا کی صفات کا مظہر ہو جاتا ہے اور بعض لوگ دھو کہ میں پڑ کر اسے خدا سمجھنے لگ جاتے ہیں۔مگر باوجود اس کے اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ جب انسان گرتا ہے تو انسانوں سے ہی نہیں۔بلکہ کسی وقت کتوں۔سؤروں۔گدھوں۔ریچھوں اور بندروں سے بھی بدتر ہو جاتا ہے اور کسی وقت نجاست کے کپڑوں سے بھی پلید تر ہو جاتا ہے۔ترقی کرتا ہے تو اس مقام پر پہنچتا ہے جس پر فرشتے بھی نہیں پہنچ سکتے اور اگر گرتا ہے تو ایسا گرتا ہے کہ ذلیل سے ذلیل مخلوق سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔ایک بزرگ کا واقعہ حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ایک صوفی تھے وہ پہاڑ پر رہتے تھے۔خدا تعالیٰ نے ان کے متعلق ایسا انتظام کیا تھا کہ ان کو دونوں وقت کھانا وہیں پہنچ جایا کرتا تھا۔کچھ عرصہ کے بعد ان کو یہ ابتلا پیش آیا کہ تین دن متواتر کھانا نہ ملا۔جب بھوک سے حالت خراب ہونے لگی تو وہ اپنی جگہ سے اٹھے اور قریب کے گاؤں میں گئے۔اور ایک مکان پر پہنچ کر کھانے کو مانگا۔گھر والوں نے ان کو تین روٹیاں دیں۔وہ روٹیاں لے کر واپس ہوئے تو گھر والوں کے دروازے پر ایک کتا بیٹھا تھا وہ ان کے ساتھ ہولیا۔انہوں نے اس کو آدھی روٹی ڈال دی۔مگر وہ کھا کر پھر ساتھ چلنے لگا۔آدھی انہوں نے اور ڈال دی۔وہ اس آدھی کو بھی 1173