نُورِ ہدایت — Page 1172
اگر کوئی کہے تو بڑی خوشی سے تیار ہو جاتے ہیں۔تو یہ زمانہ اس سورۃ کے پڑھنے کا بہت مستحق ہے تا کہ خدا تعالیٰ کی ربوبیت، مالکیت اور الوہیت کی صفات مدد کریں اور نیچے گرنے والی ہستیوں میں سٹیم بھر جائے تاکہ وہ اوپر چڑھ سکیں۔یہ خدا تعالیٰ کی مدد کے سوا ہو نہیں سکتا۔اس میں شک نہیں کہ کامیابی کے لئے اسباب کا ہونا بھی ضروری ہے۔مگر جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے تو فیق نہیں ملتی۔باوجود سامانوں کے اس کام کے کرنے کا جوش اور ہمت نہیں پیدا ہو سکتی۔دیکھو اگر کسی کو کچھ تکلیف پہنچے اور وہ پولیس میں رپورٹ کرے تو پولیس اس کی تحقیقات کرے گی لیکن اگر پولیس کو حکام بالا کی طرف سے خاص طور پر اس کی تحقیقات کا حکم ہو تو وہ بہت کوشش اور تندہی سے اس کام کو کرے گی۔اس طرح خدا تعالیٰ نے ہر کام کے لئے سامان پیدا کئے ہیں۔لیکن جب خدا تعالیٰ ان کو یہ کہہ دے کہ میرے فلاں بندے کی مدد اور تائید کرو تو سمجھ لو کہ وہ کس قدر زور سے کریں گے۔تو صرف سامان کوئی چیز نہیں۔اکثر اوقات سامان کی موجودگی میں ناکامی ہوتی ہے۔لیکن جب خدا تعالی کا حکم ہو جائے تو پھر کامیابی یقینی ہوتی ہے۔پس ہماری جماعت کو اس بات کی بڑی ضرورت ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی خاص خاص صفات کو یاد کیا کرے اور اس سورہ کو پڑھا کرے تا کہ جن دلوں میں وساوس نہیں انہیں آئندہ بھی نہ پڑیں اور جنہیں پڑے ہوں ان سے نکل جائیں۔خدا تعالیٰ ہماری جماعت کو وساوس سے بچائے اور ان کے مقام کو بلند کرے کہ دنیا کی نظروں سے اتنے ہی دور ہو جائیں جتنے ستارے ہیں۔اور ان لوگوں میں ہمارا نام لکھا جائے جو نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں کی جماعت ہے۔( خطبہ جمعہ فرمودہ 22 ستمبر 1916ء - مطبوع افضل 3 اکتوبر 1916ء) حضرت خلیفہ امسیح الثانی مخطبه جمعه فرمودہ 14اکتو بر 1918ء میں سورۃ الناس کی تشریح میں فرماتے ہیں: 1172