نُورِ ہدایت — Page 1149
حضور انور نے نہایت درد اور کرب کے ساتھ بیان فرمایا کہ کس طرح مسلمان مسلمان کا خون کر رہا ہے۔اور اس ضمن میں پاکستان، عراق، شام کے حالات کا ذکر فرمایا۔اسی طرح گزشتہ سال مسجد نبوی پر دہشتگر دحملہ کی کوشش کا ذکر فرمایا۔حضور نے فرمایا کہ پھر اسلام کے نام پر یہاں مغربی ممالک میں دہشتگردی اور قتل و غارت گری ہو رہی ہے اور اس کو دیکھ کر اسلام مخالف طاقتوں کو موقع مل رہا ہے کہ اسلام کو بد نام کریں۔اسلام کو دہشتگردی کا مذہب قرار دیں۔اسلام کو امن وسلامتی کا دشمن قرار دیں۔اس کے لئے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہماری پہلے سے رہنمائی فرما دی کہ جہاد کے نام پر جو ظلم و بربریت ہو رہی ہے یہ قرآنی تعلیم کے خلاف ہے۔اس لئے جو بھی یہ عمل کرتا ہے وہ اسلامی تعلیم کے خلاف کر رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک موجب سزا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بجڑنے کی وجہ سے احمدی ہی ہیں جو ہر میدان میں کھلی کھلی براہین اور دلائل سے اسلام کے دشمن کے منہ بند کر سکتے ہیں۔یہ بات واضح کرتی ہے کہ اس اندھیرے زمانے میں کسی الہی روشنی کی ضرورت ہے۔یہ سب فساد جو مسلمان ملکوں میں ہو رہا ہے یہ ظاہر ہے الہی روشنی کو چاہتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے جب یہ دعا سکھائی ہے تو یہ بھی ایک طرح کی پیشگوئی تھی کہ زمانہ آئے گا اور آتا رہے گا کہ جب یہ اندھیرے پھیلتے رہیں گے اور ان اندھیروں میں تم لوگ اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کی کوشش کرنا۔لیکن ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے جب یہ دعا سکھائی یا پیشگوئی فرمائی تو پھر اس الہی روشنی کا انتظام بھی کر دیا۔حضور انور نے فرمایا کہ پس یہ لوگ چاہے کسی ظاہری دنیاوی پناہ گاہ کی طرف جائیں یا کوئی اور حیلہ تلاش کریں جب تک اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرستادہ کی بات نہیں مانیں گے کسی صورت میں ان کے ملکوں میں، ان کی حکومتوں میں، آپس میں فرقوں میں، محبت اور پیار اور امن کی فضا پیدا نہیں ہو سکتی۔مسلمان ممالک کے اندر بھی فتنے اٹھتے رہیں گے۔آپس میں بھی یہ لڑتے رہیں گے۔ملکوں کے اندر بھی فتنے ہوں گے اور ملک ملک سے بھی لڑیں گے۔1149