نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1150 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1150

حضور انور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دعا جو سورۃ الفلق میں ہے اس لئے سکھائی تھی کہ اس پھاڑ کے زمانے میں، فرقوں میں بٹنے کے زمانے میں، اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آجانا اور اس شخص کے ساتھ جڑ جانا جسے اللہ تعالیٰ نے الہام فرمایا ہے کہ سب مسلمانوں کو جوڑوئے زمین پر ہیں جمع کرو علی دِین واحد۔پس اگر طاقت پکڑنی ہے، اگر دجال کا مقابلہ کرنا ہے، اگر یاجوج ماجوج کے فتنوں اور ان کی خدائی سے نکل کر خدائے واحد کی پناہ میں آنا ہے تو پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہاتھ پکڑے بغیر کوئی چارہ نہیں۔شرور سے بچنے کے لئے، حاسدوں کے حسد سے بچنے کے لئے ، اس راستے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔منہ سے وَمِن شَرِ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ پڑھنے اور اس کی روح کو نہ سمجھنے کی وجہ سے مسلمان اندھیروں میں گرتے چلے جا رہے ہیں۔ہر ظلم اور ہر برائی کے اندھیروں میں گرتے چلے جارہے ہیں۔اب اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ مسلمان بدنام ہیں۔دنیا دار حکومتوں اور ان کی آسائشوں کو روشنی اور ترقی اور اپنی بقا سمجھتے ہیں لیکن حقیقت میں اس وجہ سے یہ اللہ تعالیٰ سے دُور جارہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب بن رہے ہیں۔پس اس شر سے بچنے کے لئے ان مسلمانوں کو سوچنا ہوگا اور ہم احمدیوں کو بھی کوشش کرنی ہوگی کہ جہاں اس مضمون کو سمجھیں شیر النفقت سے اپنے آپ کو بھی بچائیں اور دنیا کو بھی بچائیں۔پھر حسد سے بچنے کے لئے بھی دعا کی طرف توجہ دیں کیونکہ اس کی بھی بہت ضرورت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ بڑا اہم نکتہ ہے کہ الہی روشنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے ہی ہونی ہے اور پھر اس کے بعد کیونکہ آپ کے نظام نے ہی جاری رہنا ہے۔نظام خلافت اس کا ذریعہ ہے۔حاسدوں کی حسد اس کے لئے بھی بڑھے گی کہ کسی طرح خلافت کو بھی نقصان پہنچایا جائے۔جماعتی ترقی کے ساتھ خلافت کے نظام کے خلاف بھی حسد بڑھتی جائے گی۔پس ہر احمدی کو اس لحاظ سے بھی دعا بھی کرنی چاہئے اور اپنا خلافت سے پختہ تعلق بھی پیدا کرنا چاہئے۔1150