نُورِ ہدایت — Page 1123
کبھی تاریکی کی وجہ سے آنکھیں ضائع ہو جاتی ہیں۔سورج کی طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے والا بھی اپنی آنکھیں کھو بیٹھتا ہے اور اندھیرے میں رہنے والوں کی بھی آنکھیں ماری جاتی ہیں۔جب تک درمیانی راہ اختیار نہ کی جائے چین و آرام حاصل نہیں ہوسکتا۔پس من شر ما خلق میں تو مال کی زیادتی اور اس کے نقصان سے بچنے کے لئے دعا سکھائی اور وَمِن شَرِ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ میں مال کی کمی کے نقصانات سے محفوظ رہنے کی طرف اشارہ کیا۔کیونکہ یہ حالت بھی اتنی خراب ہوتی ہے کہ اس کے متعلق کہا گیا ہے کہ حادَ الْفَقْرُ آن يكُونَ كُفْرًا یعنی مال کی کمی بعض اوقات انسان کے ایمان کو ضائع کر دیتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ایسی حالت سے محفوظ رہنے کے لئے یہ دعا سکھائی کہ تم اللہ تعالیٰ سے التجا کرو کہ مال ملنے کے بعد پھر فقر کی نوبت نہ آئے۔غاسق کے معنے سورج کے بھی ہیں اور چاند کے بھی۔اور وقُوب کے معنے گرہن لگنے کے بھی ہیں۔پس وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ کے معنے ہوں گے میں اس وقت کے شر سے پناہ چاہتا ہوں جبکہ سورج اور چاند کو گرہن لگے۔سورج اور چاند کو گرہن لگنے کے دو معنے ہیں: الف: یعنی وہ انوار جو خدا تعالیٰ کی طرف سے انسان کی ترقیات کے لئے ضروری ہیں، مٹ جائیں اور جو چیز میں اس نور کو مکتسب کرتی ہیں وہ بھی اس نور کو حاصل نہ کرسکیں۔جیسے سورج کی ذاتی روشنی ہے اور چاند اس سے روشنی حاصل کر کے دنیا کو منور کرتا ہے۔اگر ایسے حالات پیدا ہوجائیں کہ چاند سورج سے روشنی حاصل نہ کر سکے اور تاریک ہو جائے تو یہ حالت بھی و مِین غيز نماي اذا وقت کے ماتحت آئے گی۔پس وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ میں گود عا سکھائی گئی ہے۔لیکن اس میں یہ پیشگوئی ہے کہ ایک زمانہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نور بھی لوگوں کی نگاہوں سے مخفی ہو جائے گا۔اور نہ صرف یہ کہ آپ کا نور عوام الناس نہیں دیکھ سکیں گے بلکہ آپ کے نور کو اپنے اندر جذب کر کے 1123