نُورِ ہدایت — Page 1122
گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نور دنیا کو منور کرے گا۔پس سورۃ الخلق میں قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِ مَا خَلَق کے الفاظ کہہ کر یہ اشارہ فرمایا کہ اے محمد رسول اللہ! یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے کہ آپ کی لائی ہوئی تعلیم ساری دنیا میں پھیل جائے اور آپ وسط آسمان میں سورج کی طرح چمک کر ساری دنیا کو منور کر دیں۔پھر اس کے بعد ومن شَرِ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ کہہ کر یہ ہدایت کی کہ آپ کو اللہ تعالیٰ سے التجا کرنی چاہئے کہ اس کے بعد کوئی ایسا وقت نہ آجائے کہ آپ کا روشن چہرہ دنیا کی آنکھوں سے اوجھل ہو جائے اور لوگ آپ کی روشنی سے محروم ہو جائیں اور دنیا پر تاریکی چھا جائے۔اسی طرح اُمتِ مسلمہ کے ہر فرد کو حکم دیا کہ وہ دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ جو کمال انہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے دینے والا ہے اور جو روحانی اور جسمانی ترقیات مسلمانوں کو دی جانے والی ہیں ان کے بعد ان پر زوال نہ آجائے اور ایسا نہ ہو کہ وہ کسی وقت قرآنی تعلیم پر عمل کرنا چھوڑ دیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی اور قرآن کریم کے نور سے محروم ہوجائیں اور ان پر تاریکی چھا جائے۔اور اسی طرح مادی ترقیات ملنے کے بعد کوئی ایسا سبب پیدا نہ ہو جس سے وہ تباہی کے گڑھوں میں جاگریں اور اگر کوئی ایسی بات مسلمانوں کی غلطیوں کی وجہ سے پیدا ہو جائے تو پھر اللہ تعالیٰ ان کی خود دستگیری فرمائے اور ایسے حالات پیدا کر دے کہ پھر سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا روشن چہرہ دنیا دیکھنے لگے اور تنزل کے دن ترقی سے بدل جائیں۔عشقی کے ایک معنے کسی چیز کی کثرت کے ہیں۔چنانچہ کہتے ہیں غَسَقَتِ السَّمَاءُ غَسْقًا أَى انْصَبَّتْ وَ اَرشت کہ باولوں میں اتنا پانی تھا کہ وہ زور سے بہ پڑے۔اور اسی طرح آنکھ جب آنسوؤں سے ڈبڈبا آئے اور خود بخود آنسو بہنے لگیں تو اس وقت بھی غسق کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔پس ان معنے کے اعتبار سے وَمِنْ شَرِ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ کے معنے ہوں گے کہ آسودگی کے بعد تنگی سے میں پناہ چاہتا ہوں۔یہ ظاہر ہے کہ کبھی دولت کی زیادتی خراب کرتی ہے اور کبھی دولت کی کمی۔جیسے کبھی نور کی زیادتی کی وجہ سے آنکھیں ماری جاتی ہیں اور 1122