نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1124 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1124

اُسے دنیا میں پھیلانے والے صلحاء اور اولیاء جو قمر کا درجہ رکھتے ہیں وہ بھی موجود نہیں ہوں گے اور تاریکی ہی تاریکی چھا جائے گی۔پس ایسے وقت میں جو شر امت مسلمہ کو پہنچ سکتا ہے اس سے بچنے کے لئے پناہ طلب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔باء: ظاہری لحاظ سے یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ اس آیت میں سورج اور چاند کو گرہن لگنے کی طرف اشارہ ہے اور بتایا ہے کہ جب ایسا زمانہ آئے تو اس کے شرور سے پناہ چاہو۔احادیث میں یہ بات پوری وضاحت سے بیان ہوئی ہے کہ امت محمدیہ پر روحانی اور جسمانی ترقیات کے بعد ایک ایسا زمانہ بھی آنے والا ہے جب کہ وہ تنزل کے گڑھے میں گر جائے گی اور اسلام کا صرف نام ان میں باقی رہ جائے گا۔اور قرآن کریم صرف اوراق میں ہو گا لیکن اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔ہر قسم کی خرابی ان میں پھیل جائے گی اور ان کی وہ حکومتیں اور شان و شوکت جو قرآن کی بدولت ان کو ملی تھیں ختم ہو جائیں گی۔ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ امت محمدیہ کی دستگیری فرمائے گا اور ایک ایسے شخص کو مبعوث کرے گا جو سیح اور مہدی کا نام پائے گا۔اور اس کے ذریعہ اسلام ہر حیثیت سے غالب ہو جائے گا اور اس کی مٹی ہوئی عظمت پھر سے قائم ہو جائے گی۔مہدی اور مسیح کے مبعوث ہونے کے وقت کئی نشانات ظاہر ہوں گے اور ان میں سے ایک نشان سورج اور چاند کو رمضان کے مہینے میں گرہن لگنے کا بھی ہے۔۔۔۔پس مِن شَرِ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ میں اس بات کے لئے دعا سکھائی گئی ہے کہ جب ایسا زمانہ آئے کہ اسلام کمزوری کی حالت میں ہو اور اللہ تعالیٰ مہدی اور مسیح کو دین اسلام کی عظمت قائم کرنے کے لئے کھڑا کرے تو اس زمانہ کے شرور سے اللہ تعالیٰ بچائے اور اس کے اعوان و مدد گاروں سے بنائے اور اس کے مخالف لوگوں پر جو عذاب آئیں گے، اللہ تعالیٰ ان سے محفوظ رکھے۔مِنْ شَرِ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ میں انجام کی خرابی سے بچنے کے لئے دعا سکھائی کیونکہ کبھی ابتدا تو اچھی ہوتی ہے لیکن انتہا خراب ہو جاتی ہے۔بعض اوقات ایسی بے موقعہ اور بے محل انتہا ہوتی ہے کہ بجائے اس کے کہ نیکی قائم رہے بربادی ہو جاتی ہے۔اسی وجہ سے اس آیت 1124