نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1113 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1113

رکھ کر ترقیات کے بلند مقام پر پہنچا سکتا ہے۔مِنْ شَرِّ مَا خَلق جو چیز بھی اس نے پیدا کی ہے اس کے شر سے میں اس کی پناہ چاہتا ہوں۔اس میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ دنیا کی کوئی چیز ایسی نہیں جس میں سے شر نہ پیدا ہو سکے۔عام طور پر لوگ خیال کر لیتے ہیں کہ بعض چیزیں اچھی ہیں اور بعض بُری۔مگر قرآن کریم بتاتا ہے کہ یہ بیچ نہیں۔ہر چیز اچھی بھی ہے اور ہر چیز بری بھی ہے۔کوئی اچھی بات نہیں جس میں شر نہ ہو اور کوئی بری بات نہیں جس میں خیر نہ ہو۔مثلا غربت و امارت ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہو تو دولت بھی شر پیدا کرسکتی ہے اور اگر فضل ہو تو غربت بھی کوئی شر پیدا نہیں کرسکتی۔شر در حقیقت اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان خدا تعالیٰ کی حفاظت سے باہر نکل جائے۔قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِن شَرِّ مَا خَلَقَ میں خدا تعالیٰ نے یہی بتایا ہے کہ یہ نہ کہا کرو کہ یہ بُری چیز ہے مجھ سے دور رہے اور فلاں اچھی چیز ہے مجھے مل جائے کیونکہ بُری چیز کی برائی اور اچھی چیز کی خوبی سب آغوڈ سے دوری اور نزدیکی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔اگر آعُوذُ نہ ہو تو اچھی چیز بھی بری بن جاتی ہے۔اور اگر آخوذ کا سہار ا ساتھ ہو تو بری چیز بھی خیر کا موجب بن جاتی ہے۔پس قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ میں انسان کو اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کی حفاظت کی طرف متوجہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اگر مخلوقات کے برے پہلو سے تم بچنا چاہو تو صرف اللہ تعالیٰ ہی تمہیں بچا سکتا ہے۔کیونکہ وہ تمام مخلوقات کا رب ہے اور جانتا ہے کہ کس طرح ہر شر سے بھی خیر پیدا ہوسکتا ہے اور مخلوقات میں سے کوئی شے اس کے اذن کے بغیر حرکت نہیں کرسکتی۔پھر مِن شَرِ مَا خَلَقَ کے الفاظ سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ اے مخلوقات کے پیدا کرنے والے خدا! میں تیری پناہ چاہتا ہوں پیدائش کے ان نقائص سے جو کسی چیز کے پیدا ہوتے وقت اس میں رہ جاتے ہیں اور اس چیز کی ترقی اور کمال کے حاصل کرنے میں روک بن جاتے ہیں۔چنانچہ دنیا میں جب بھی خرابی ہو گی تین وجہ سے ہوگی۔(1) پیدائش میں نقص کی وجہ 1113