نُورِ ہدایت — Page 1114
سے۔(2) انتہا خراب ہونے کی وجہ سے (3) یا زندگی کے درمیانی حالات کے خراب ہونے کی وجہ سے۔مِنْ شَرِ مَا خَلَقَ میں پیدائش میں نقص رہ جانے کی وجہ سے جو خرابی انسان کو لاحق ہوسکتی ہے اس سے پناہ سکھائی گئی ہے۔کیونکہ پیدائش میں نقص یا خرابی ہو تو تباہی آجائے گی اور مقصد حاصل نہیں ہو سکے گا۔اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ دعا سکھائی ہے کہ کہو میری پیدائش میں جو نقص رہ گیا ہے اس سے پناہ مانگتا ہوں۔انسان جب پیدا ہوتا ہے تو ماں باپ کی بداعمالیوں اور بُرائیوں سے بھی ورثہ پاتا ہے۔جس قسم کے افعال اس کے ماں باپ کرتے ہیں وہ بھی انہیں کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب میاں بیوی ملیں تو دعا مانگ لیں کہ ہم شیطان سے پناہ مانگتے ہیں اور اپنی اولاد کے لئے بھی شیطان سے پناہ چاہتے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ بعض خرابیاں ورثہ میں پیدا ہو جاتی ہیں۔اور پھر ظاہری لحاظ سے ہم دیکھتے ہیں کہ بچے عام طور پر ماں باپ کے قد علم ،حوصلہ اور خیالات کو لیتے ہیں۔چوری کرنے والے یا جھوٹ بولنے والے لوگوں کے بچے چوری اور جھوٹ کی طرف راغب ہوتے ہیں۔مسلول باپ کا بچہ بھی مسلول ہو جاتا ہے۔پس یہ بات بالکل درست ہے کہ ورثہ میں خرابیاں اور کمزوریاں بھی ملتی ہیں اور خوبیاں بھی ملتی ہیں۔۔۔۔اس لئے خدا تعالیٰ نے یہ دعا سکھائی کہ کہو اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِ مَا خَلق اے میرے پیدا کرنے والے اور میری پرورش کرنے والے اب اگر مجھ میں ورثہ کے طور پر یا کسی اور اثر سے کوئی کمزوری اور خلقی نقص رہ گیا ہے تو اس کے اثر سے مجھے بچا۔تا میں تیری رضا حاصل کر سکوں اور تیرا قرب پا سکوں۔غرض اس حصہ آیت میں ان کمزوریوں سے پناہ مانگی گئی ہے جو انسان میں پیدائشی طور پر آجاتی ہیں۔قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ میں ہمیں اسی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ انسان مخلوقات کا ایک جزو ہے۔وہ جمادات، نباتات، حیوانات سے علیحدہ نہیں ہے۔اگر ہم 1114