نُورِ ہدایت — Page 1112
روشنی کو لاتا ہے مجھے بھی ظلمت سے نکال کر روشنی میں لا۔یہ ظاہر ہے کہ اندھیرے میں پو پھٹتی ہے اور آہستہ آہستہ روشنی ہوتی جاتی ہے اور سورج او پر آتا جاتا ہے حتی کہ نصف النہار پر چمکنے لگتا ہے۔پس فرمایا: اے وہ رب جس نے تمام ذاتی کمالات اور ترقی کے سامان جس قدر کہ ضروری تھے انسان میں جمع کر دیتے ہیں اور بتا دیا ہے کہ انسان اپنی ذات کو ان ذرائع کے استعمال سے کس طرح مکمل کر سکتا ہے۔اے اپنی ذات میں کامل خدا مجھ کو بھی کمالات حاصل کرنے کی توفیق دے۔اور مجھ کو اپنی صفت ربوبیت کے ماتحت اس طور پر کمال دے کہ میں بھی اسی طرح دنیا میں چھکوں جس طرح سورج وسط آسمان پر چمکتا ہے۔اور مجھے ہر قسم کے دُکھ اور مصیبت سے محفوظ رکھ۔اور کمال کے حصول میں کوئی مانع نہ ہو۔فلق کے دوسرے معنے ہیں الْخَلْقُ كُلُّهُ۔یعنی تمام مخلوقات۔پس قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ کے معنی ہوں گے میں اس خدا کی پناہ چاہتا ہوں جو تمام مخلوقات کا رب ہے۔یعنی جوہر چھوٹی بڑی چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔اس آیت میں مخلوقات کے مفہوم کو ادا کرنے کے لئے لفظ فلق کو اختیار کیا گیا ہے اور خلق کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا۔کیونکہ خلق کی نسبت فلق میں ایک زائد مفہوم پایا جاتا ہے۔خلق کا لفظ صرف پیدائش پر دلالت کرتا ہے۔مگر فلق کا لفظ ادنی سے اعلیٰ حالت کی طرف جانے پر بھی دلالت کرتا ہے۔پھر فلق کے معنے تاریکی سے روشنی کی طرف جانے کے بھی ہیں۔اسی لئے فلق صبح کو بھی کہتے ہیں۔پس ایک تاریک چیز جب روشنی کی طرف جاتی ہے تو اسے فلق کہتے ہیں۔خالی تخلق کا لفظ اگر کہا جاتا تو اس میں یہ اشارہ نہ ہوتا کہ انسانی پیدائش کو اونی حالت سے اعلیٰ حالت میں منتقل کرنے کا ذکر ہے۔لیکن فلق کہہ کر بتا دیا کہ مخلوق کی حالت پہلے ادنی ہوتی ہے جسے اللہ تعالیٰ اعلیٰ بنا دیتا ہے۔پس آعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ میں جہاں اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا ہے وہاں پناہ مانگنے کے اسباب بھی بتا دیئے ہیں۔یعنی ہم اس سے پناہ مانگ سکتے ہیں جو اشیاء کا خالق و مالک ہو اور جو نقصان رساں چیزوں سے محفوظ 1112