نُورِ ہدایت — Page 1094
مکذب ہیں کہ اس کی منشاء کے برخلاف اصرار کرتے ہیں اور اپنے ایسے افعال سے جو مخالف قرآن ہیں اور دشمنوں کے عقائد سے ہم رنگ میں دشمنوں کو مدد دیتے ہیں۔پس اس طرح اُن عُقد وں میں پھونک مار کر ان کو لا ینحل بنانا چاہتے ہیں پس ہم ان کی شرارتوں سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں اور نیز ہم ان لوگوں کی شرارتوں سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں جوحسد کرتے اورحسد کے طریقے سوچتے ہیں اور ہم اس وقت سے پناہ مانگتے ہیں جب وہ حسد کرنے لگیں۔“ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 221،220) آخری مظہر شیطان کے اسم دجال کا جو مظہر اتم اور اکمل اور خاتم المظا ہر ہے وہ قوم ہے جس کا قرآن کے اول میں بھی ذکر ہے اور قرآن کے آخر میں بھی یعنی وہ ضالین کا فرقہ جس کے ذکر پر سورہ فاتحہ ختم ہوتی ہے۔اور پھر قرآن شریف کی آخری تین سورتوں میں بھی اس کا ذکر ہے یعنی سورۃ اخلاص اور سورہ فلق اور سورہ ناس میں سورۃ فلق میں یہ اشارہ کیا گیا کہ یہ قوم اسلام کے لئے خطرناک ہے اور اس کے ذریعہ سے آخری زمانہ میں سخت تاریکی پھیلے گی اور اس زمانہ میں اسلام کو ایک بڑے شر کا سامنا ہوگا۔اور یہ لوگ معضلات اور دقائق دین میں گرہ در گرہ دے کر مکار عورتوں کی طرح لوگوں کو دھوکا دیں گے اور یہ تمام کاروبار محض حسد کے باعث ہوگا جیسا کہ قابیل کا کاروبارحسد کے باعث تھا۔فرق صرف یہ ہے کہ قابیل نے اپنے بھائی کا خون زمین پر گرایا مگر یہ لوگ بباعث جوش حسد سچائی کا خون کریں گے۔غرض سورة قُلْ هُوَ الله احد میں ان لوگوں کے عقائد کا بیان ہے اور سورہ فلق میں ان لوگوں کے ان اعمال کی تشریح ہے جو قوت اور طاقت کے وقت ان سے ظاہر ہوں گے۔چنانچہ دونوں سورتوں کو بالمقابل رکھنے سے صاف سمجھ آتا ہے کہ پہلی سورۃ یعنی سورۃ اخلاص میں قوم نصاری کے اعتقادی حالات کا بیان ہے اور دوسری سورۃ میں عملی حالات کا ذکر ہے۔اور سخت تاریکی سے آخری زمانہ کی طرف اشارہ ہے جبکہ یہ لوگ اس رُوح کے مظہر اتم ہوں گے جو خدا کی طرف سے مضل ہے اور ان دونوں سورتوں کے بالمقابل لکھنے سے جلد تران لطیف اشارات کا علم ہو 1094