نُورِ ہدایت — Page 1093
اور اس وقت سے پناہ مانگتے ہیں جب وہ حسد کرنے لگیں۔“ الحکم جلد 6 نمبر 8 مورخہ 28 فروری 1902 ءصفحہ 5) ا ”کہہ میں شریر مخلوقات کی شرارتوں سے خدا کے ساتھ پناہ مانگتا ہوں اور اندھیری رات سے خدا کی پناہ میں آتا ہوں۔یعنی یہ زمانہ اپنے فساد عظیم کے رُو سے اندھیری رات کی مانند ہے سوا ہی قوتیں اور طاقتیں اس زمانہ کی تنویر کے لئے درکار ہیں۔انسانی طاقتوں سے یہ کام انجام ہونا محال ہے۔“ ( براہین احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 604 حاشیه در حاشیہ نمبر 3) تم جو نصاری کا فتنہ دیکھو گے اور مسیح موعود کے دشمنوں کا نشانہ بنو گے یوں دعا مانگا کرو کہ میں تمام مخلوق کے شر سے جو اندرونی اور بیرونی دشمن ہیں اس خدا کی پناہ مانگتا ہوں جو صبح کا مالک ہے یعنی روشنی کا ظاہر کرنا اس کے اختیار میں ہے اور میں اس اندھیری رات کے شرے جو عیسائیت کے فتنہ اور انکار مسیح موعود کے فتنہ کی رات ہے خدا کی پناہ مانگتا ہوں اُس وقت کے لئے یہ دُعا ہے جبکہ تاریکی اپنے کمال کو پہنچ جائے اور میں خدا کی پناہ اُن زن مزاج لوگوں کی شرارت سے مانگتا ہوں جو گنڈوں پر پڑھ پڑھ کر پھونکتے ہیں۔یعنی جو عقدے شریعت محمدیہ میں قابل حل ہیں اور جو ایسے مشکلات اور معضلات ہیں جن پر جاہل مخالف اعتراض کرتے ہیں اور ذریعہ تکذیب دین ٹھہراتے ہیں اُن پر اور بھی عناد کی وجہ سے پھونکیں مارتے ہیں۔یعنی شریر لوگ اسلامی دقیق مسائل کو جو ایک عقدہ کی شکل پر میں دھوکہ دہی کے طور پر ایک پیچیدہ اعتراض کی صورت پر بنا دیتے ہیں تا لوگوں کو گمراہ کریں۔اُن نظری اُمور پر اپنی طرف سے کچھ حاشیے لگا دیتے ہیں۔اور یہ لوگ دو قسم کے ہیں ایک تو صریح مخالف اور دشمن دین ہیں جیسے پادری جو ایسی تراش خراش سے اعتراض بناتے رہتے ہیں۔اور دوسرے وہ علمائے اسلام ہیں جو اپنی غلطی کو چھوڑنا نہیں چاہتے اور نفسانی پھونکوں سے خدا کے فطری دین میں عقدے پیدا کر دیتے ہیں اور زنانہ خصلت رکھتے ہیں کہ کسی مرد خدا کے سامنے میدان میں نہیں آسکتے۔صرف اپنے اعتراضات کو تحریف تبدیل کی پھونکوں سے عقدہ لا یخل کرنا چاہتے ہیں اور اس طرح پر زیادہ تر مشکلات خدا کے مصلح کی راہ میں ڈال دیتے ہیں۔وہ قرآن کے 1093