نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1088 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1088

اس شک میں مبتلا ہیں اور دوسروں کو بھی اس شک میں ڈالتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا کوئی وجود نہیں ہے۔قرآن اعلان کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہے۔تم اندھے ہو، تمہیں نظر نہیں آتا۔تم دنیا میں ڈوبے ہوئے ہو تمہیں کس طرح خدا تعالیٰ اپنے وجود کا ثبوت دے۔ہر دنیاوی کام کے لئے انسان کوشش کرتا ہے، جہاد کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے لئے یہ چاہتے ہیں کہ بغیر کوشش کے مل جائے ، کچھ ترد نہ کرنا پڑے۔اور وہی لوگ ہیں جو خدا تعالی کی طرف بڑھنے کی کوشش نہیں کرتے اور یہی چیز ہے جو انہیں شرک میں مبتلا کر رہی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت 70) یعنی اور وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں ہم ضرور انہیں اپنے راستے دکھاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کی وضاحت میں فرماتے ہیں کہ : جولوگ ہماری راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں اور ہماری طلب میں کوشش کو انتہا تک پہنچا دیتے ہیں انہی کے لئے ہمارا یہ قانون قدرت ہے کہ ہم ان کو اپنی راہ دکھلا دیا کرتے ہیں۔“ (حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 117) کوشش کو انتہا تک پہنچانا ضروری ہے۔صرف کوشش نہیں۔آدھے راستے میں چھوڑ نہیں دینا۔پھر آپ نے مزید وضاحت کے طور پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ : جولوگ ہماری راہ میں جو صراط مستقیم ہے مجاہدہ کریں گے تو ہم ان کو اپنی راہیں بتلا دیں گئے ( فرمایا کہ ) اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہیں وہی ہیں جو انبیاء کو دکھلائی گئیں تھیں۔“ 66 ( شهادة القرآن، روحانی خزائن جلد 6 صفحه 352) پس ذاتی تجربہ تو اللہ تعالیٰ کے وجود کا اُس وقت ہوگا جب اس کی طرف انسان قدم بڑھائے گا۔یہ اللہ تعالیٰ نے شرط لگائی ہے۔انسان کی کم علمی اور کسی چیز کو حاصل کرنے کی کوشش نہ کرنا یا اس چیز کا اس کو حاصل نہ ہونا اس بات کی دلیل نہیں بن جاتا کہ وہ چیز نہیں ہے یا اس کا وجود نہیں ہے۔پس یہی اصول خدا تعالیٰ کے وجود کی پہچان کے لئے بھی ضروری ہے۔یہ تو ہے 1088