نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1089 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1089

ذاتی طور پر اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کر کے اس کی پہچان کرنا اور اس کے وجود کا علم ہونا لیکن علمی لحاظ سے بھی بے شمار باتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی ذات کا پتا دیتی ہیں۔قرآن کریم میں پیشگوئیاں ہیں، بیشمار پیشگوئیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کے کلام کی صداقت کا پتا دیتی ہیں۔مثلاً قرآن کریم میں سورۃ رحمن میں سمندروں کو ملانے کی پیشگوئی ہے کہ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِينِ (الرحمن (20) که دوسمندروں کو ملا دے گا جو بڑھ بڑھ کے ملیں گے۔مشرق میں بھی، مغرب میں بھی اس کے نمونے موجود ہیں۔سویز کنال ہے، پانامہ کنال ہے سمندروں کو ملانے والی۔پھر قرآن کریم میں اور بھی بہت سی جگہ پیشگوئیاں ہیں۔مثلاً سورۃ تکویر میں ہی پرانی سواریوں کو ترک کرنے کی نئی اور آسان سواریوں کی ایجاد کی پیشگوئیاں ہیں جس سے فاصلے کم ہوجائیں گے، دنیا ایک ہو جائے گی۔چودہ سو سال پہلے ان باتوں کی خبریں کس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیں۔اُسی خدا نے جو کہتا ہے کہ میں ہوں اور یکتا ہوں اور تمام صفات میں کامل ہوں۔جو عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَة خدا ہے۔وہ علیم وخبیر ہے۔تو یہ پیشگوئیاں پوری بھی ہوگئیں اور ہو بھی رہی ہیں اور کوئی بھی نہیں جو کسی بھی لحاظ سے اللہ تعالیٰ کا ان باتوں میں شریک ہو۔پھر وہ سائنس کی باتیں ہیں جو آج دریافت ہو رہی ہیں۔چودہ سو سال پہلے کے انسان کو پتا نہیں لگ سکتیں۔پس ہزاروں سال پرانی باتوں سے لے کر آج تک اور آئندہ کی خبریں دینے والا خدا ہے جو ازل سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔سب طاقتوں والا ہے۔اس کا کوئی شریک نہیں۔(ماخوذ از هفت روزه الفضل انٹر نیشنل 17 فروری 2017، صفحہ 4) 1089