نُورِ ہدایت — Page 1087
ہے اور فلاں عیسائیوں کا۔بلکہ خود ان قوموں کی کتابوں میں لکھا ہوتا تھا کہ تمہارا خدا جو پرمیشور یا الو ہیم ہے تمہیں یوں کہتا ہے۔گویا پہلے زمانوں میں اللہ تعالیٰ کا وجود بھی ایک قومی ہو کر رہ گیا تھا۔آخر اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی علیم کے ذریعہ بنی نوع انسان پر اپنا اسم ذات یعنی لفظ اللہ ظاہر کیا۔اور دنیا کو بتایا کہ گاڈ اور یزدان اور الو ہیم وغیرہ سب اللہ کے نام کی طرف اشارے ہیں۔ورنہ اصل میں ایک ہی خدا ہے جس کا نام اللہ ہے۔اسی حقیقت کی طرف اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بھی اشارہ فرمایا ہے وَلَئِن سَأَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ الله - (لقمان 26) یعنی اگر تو ان سے پوچھے کہ زمین و آسمان کو کس نے پیدا کیا ہے تو وہ کہیں گے اللہ نے۔اس کے یہ معنے نہیں کہ وہ اللہ کا نام لیں گے۔بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ جو بھی نام لیں گے اُن کا اشارہ اللہ ہی کی طرف ہوگا۔پس اصل چیز ایک ہی ہے یعنی خواہ ہندو اور عیسائی اس کا کوئی نام رکھیں مراد در حقیقت یہی ہے کہ اللہ سب چیزوں کا خالق ہے۔پس اللہ قومی نہیں بلکہ رب العالمین ہے اور دنیا کی ساری قومیں کسی نہ کسی نام سے اس کو مانتی اور تسلیم کرتی ہیں۔ماخوذ از تفسیر کبیرزیر تفسير سورة الاخلاص) حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ماہ رمضان المبارک 2016 ء کے آخری روز مسجد فضل لندن میں قرآن مجید کی آخری تین سورتوں کا درس ارشاد فرمایا۔حضور انور ایدہ اللہ نے اس میں فرمایا: سورۃ اخلاص میں کامل تو حید کو بیان کیا گیا ہے۔یہ کہ خدا تعالیٰ کی ذات موجود ہے۔یہ کہ خدا تعالیٰ کی ذات منفرد ہے۔وہ یکتا ہے۔اور یہ کہ وہ اپنی صفات میں واحد ہے۔اس کی صفات کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔یہ جو خدا تعالیٰ کے نہ ماننے والے ہیں آجکل ان کی تعداد بڑی بڑھتی جارہی ہے۔یہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا کوئی وجود نہیں ہے اور اس چیز نے اکثریت کو مذہب سے دُور کر دیا ہے۔1087