نُورِ ہدایت — Page 1072
گواہی دیتا ہے۔پس اس کو شناخت کرنا ہی عظیم الشان بات ہے۔الحکم جلد 6 نمبر 19 مورخہ 24 رمئی 1902، صفحہ 5) الضالین کے مقابل آخر کی تین سورتیں ہیں۔اصل تو قُلْ هُوَ الله ہے اور باقی دونوں سورتیں اس کی شرح ہیں۔قُلْ هُوَ الله کا ترجمہ یہ ہے کہ نصاری سے کہہ دو کہ اللہ ایک ہے۔اللہ بے نیاز ہے۔نہ اس سے کوئی پیدا ہوا اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ کوئی اس کے برابر ہے۔الحکم جلد 6 نمبر 8 مورخہ 28 /فروری 1902 صفحہ 5) حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ا هو هو بھی اللہ تعالیٰ کا نام ہے۔توریت میں زیادہ تر یہی نام خدا تعالیٰ کا آتا ہے۔عبرانی میں اس کا ترجمہ یہوواہ سے کیا جاتا ہے۔اصل بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ چونکہ عبرانی زبان عربی زبان سے بگڑ کر بنی ہے۔اس واسطے یہ لفظ دراصل يَاهُوَ تھا۔هُوَ اللہ تعالیٰ کا نام ہے اور کیا حرف منادی ہے۔جیسا کہ دعا میں کہا جاتا ہے اے خدا ، یا اللہ۔اسی سے بدل کر انگریزی میں جہوا ( Jehoah) بن گیا ہے۔الغرض هُوَ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ایک اسم ہے۔الله : یہ نام خدا کے واسطے عربی زبان میں اسم ذات ہے۔خدا تعالیٰ کا خاص نام ہے جو صرف اسی کی ذات پر بولا جاتا ہے۔دوسری کسی زبان میں خدا تعالیٰ کے واسطے کوئی ایسا نام نہیں جو صرف اللہ تعالیٰ کے واسطے بولا جاتا ہو اور ایک مفر دلفظ ہو اور کسی دوسرے کے واسطے کبھی استعمال نہ ہوتا ہو۔مثلاً انگریزی زبان میں اللہ تعالیٰ کے واسطے دو لفظ بولے جاتے ہیں۔ایک گاڈ (God) اور دوسر الارڈ (Lord)۔سو ظاہر ہے کہ گاڈ (God) کا لفظ انگریزی زبان میں تمام رومی اور یونانی اور ہندی بتوں پر بولا جاتا ہے اور دیوتاؤں کے واسطے بھی استعمال ہوتا ہے۔اور لارڈ کا لفظ تو ایسا عام ہے کہ ایک معمولی فوج کا افسر بھی لارڈ ہوتا ہے۔اور ایک صوبہ کا حاکم بھی لارڈ ہوتا ہے۔بلکہ ولایت میں پارلیمنٹ کے اعلی حصے کے تمام ممبر لارڈ ہی 1072