نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1073 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1073

ہوتے ہیں۔ایسا ہی فارسی زبان میں اللہ تعالیٰ کے واسطے کوئی خاص لفظ نہیں۔جو لفظ زیادہ تر اللہ تعالیٰ کے واسطے بولا جاتا ہے وہ خدا یا خداوند ہے۔خدا ایک مرکب لفظ ہے۔اور اس کے معنے ہیں خود آ۔جو خود بخود ہے۔اور کسی نے اس کو جنا نہیں۔اور فارسی لٹریچر میں یہ الفاظ اوروں کے واسطے بھی استعمال میں آتے ہیں۔ایسا ہی سنسکرت زبان میں جس قدر اللہ تعالیٰ کے نام ہیں وہ سب صفاتی ہیں۔کوئی اسم ذات نہیں۔رض لا حمد : اس سردار کو کہتے ہیں جس کی طرف وقت حاجت قصد کیا جاوے۔چونکہ اللہ تعالی تمام انسانوں کو سب حاجتوں کے پورا کرنے کے لئے قدرتِ تام رکھتا ہے اس واسطے اس کی صفت میں یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے۔اسی لحاظ سے سید سردار کو بھی کہتے ہیں۔کیونکہ تمام قوم اپنے سردار کی محتاج ہوتی ہے۔حضرت ابن عباس کی حدیث سے بھی ان معنوں کی تصدیق ہوتی ہے۔جس میں لکھا ہے کہ جب یہ سورۃ شریف نازل ہوئی تو اصحاب نے سوال کیا کہ یارسول اللہ صل علی محمد کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا۔هُوَ السَّيْدُ الصَّمَدُ الَّذِي يُصْمَدُ إِلَيْهِ في الحوائج وہ سردار ہے جس کی طرف لوگ احتیاج کے وقت قصد کرتے ہیں۔پھر لغت میں عربی میں حمد اس کو کہتے ہیں جس کا جوف نہ ہو یعنی اس کے اندر کوئی چیز نہ جاسکے۔نہ اس میں سے کوئی چیز نکلے۔ایسا ہی حمد اس شفاف پتھر کو بھی کہتے ہیں جس پر گرد و غبار نہ پڑ سکے۔مفسرین نے مختلف پہلوؤں کے لحاظ سے لفظ حمد کی تفسیر کئی طرح سے کی ہے جس میں سے بعض کو اس جگہ نقل کیا جاتا ہے۔1 - حمد وہ عالم ہے جس کو تمام اشیاء کا علم ہو اور وہ بجز ذات الہی کے دوسرا نہیں۔2 - حمد حلیم کو کہتے ہیں کیونکہ سید و ہی ہو سکتا ہے جو حلم اور کرم کی صفات اپنے اندر رکھتا ہے۔3 - حمد وہ سردار ہے جس کی سرداری اور سیادت انتہائی اعلیٰ درجہ تک ہو۔(ابن مسعود وضحاک) 1073