نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1071 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1071

وقت کی محتاج اور غیر محدود ہے کیونکہ اس کی تمام صفات بے مثل و مانند ہیں اور جیسے کہ اس کی کوئی مثل نہیں اس کی صفات کی بھی کوئی مثل نہیں۔اگر ایک صفت میں وہ ناقص ہوتو پھر تمام صفات میں ناقص ہوگا۔اس لئے اس کی تو حید قائم نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ اپنی ذات کی طرح اپنے تمام صفات میں بے مثل و مانند نہ ہو۔پھر اس سے آگے آیت ممدوحہ بالا کے یہ معنے ہیں کہ خدا نہ کسی کا بیٹا ہے اور نہ کوئی اس کا بیٹا ہے کیونکہ وہ غنی بالذات ہے۔اس کو نہ باپ کی حاجت ہے اور نہ بیٹے کی۔یہ توحید ہے جو قرآن شریف نے سکھلاتی ہے جو مدارا ایمان ہے۔لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 154، 155 ) انصاری کا فتنہ سب سے بڑا ہے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ایک سورت قرآن شریف کی تو ساری کی ساری صرف ان کے متعلق خاص کر دی ہے یعنی سورۃ اخلاص اور کوئی سورت ساری کی ساری کسی قوم کے واسطے خاص نہیں ہے۔أحد خدا کا اسم ہے اور احد کا مفہوم واحد سے بڑھ کر ہے۔حمد کے معنی ہیں ازل سے عنی بالذات جو بالکل محتاج نہ ہو۔اقنوم ثلاثہ کے ماننے سے وہ محتاج پڑتا ہے۔الحکم جلد 5 نمبر 12 مورخہ 31 مارچ 1901 ، صفحہ 9) کہہ دو کہ وہ خدا ایک ہے۔ھو خدا کا نام ہے۔وہ ایک۔وہ بے نیاز ہے۔نہ کھانے پینے کی اس کو ضرورت۔نہ زمان یا مکان کی حاجت۔نہ کسی کاباپ ، نہ بیٹا۔اور نہ کوئی اس کا ہمسر اور بے تغیر ہے۔یہ چھوٹی سی سورت قرآن شریف کی ہے جو ایک سطر میں آجاتی ہے لیکن دیکھو کس خوبی اور عمدگی کے ساتھ ہر قسم کے شرک سے اللہ تعالی کی تنزیہ کی گئی ہے۔حصر عقلی میں شرک کے جس قدر قسم ہو سکتے ہیں ان سے اس کو پاک بیان کیا ہے۔جو چیز آسمان اور زمین کے اندر ہے وہ ایک تغیر کے نیچے ہے مگر خدا تعالیٰ نہیں ہے۔اب یہ کیسی صاف اور ثابت شدہ صداقت ہے۔دماغ اسی کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔نور قلب جس کی شریعت دل میں ہے اس پر شہادت دیتا ہے۔قانونِ قدرت اسی کا موید و مصدق ہے یہاں تک کہ ایک ایک پتہ اس پر 1071