نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 843 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 843

آج جو اَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا کا زمانہ ہے یہ مسیح موعود ہی کے وقت کے لئے مخصوص تھا۔چنانچہ اب دیکھو کہ کس قدر ایجادیں اور نی کا نیں نکل رہی ہیں۔ان کی نظیر پہلے کسی زمانہ میں نہیں ملتی ہے۔میرے نزدیک طاعون بھی اسی میں داخل ہے۔الحکم جلد 5 نمبر 14 مورخہ 17 اپریل 1901ء صفحہ 7) یوں تو زمین سے ہمیشہ کا نہیں نکلتی رہتی ہیں اور آتش فشاں پہاڑ پھٹتے رہتے ہیں مگر اب خصوصیت سے ان زلزلوں کا آنا اور زمین کا الٹنا یہ آخری زمانہ کی علامتوں سے ہے اور آخرجت الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا اسی کی طرف اشارہ ہے۔زمانہ بتلا رہا ہے کہ وہ ایک نئی صورت اختیار کر رہا ہے اور اللہ تعالیٰ خاص تصرفات زمین پر کرنا چاہتا ہے۔( البدر جلد اول نمبر 4 مورخہ 21 نومبر 1902ء صفحہ 30) ہمارے اصول میں تو یہ لکھا ہے کہ مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَةُ اب اس کا اثر تم خود سوچ لو گے کیا پڑے گا۔یہی کہ انسان اعمال کی ضرورت کو محسوس کرے گا اور نیک عمل کرنے کی سعی کرے گا۔برخلاف اس کے جب یہ کہا جاوے گا کہ انسان اعمال سے نجات نہیں پاسکتا تو یہ اصول انسان کی ہمت اور سعی کو پست کر دے گا اور اس کو بالکل مایوس کر کے بے دست و پا بنا دے گا۔جو اعمال کی ضرورت نہیں سمجھتا وہ سخت ناعاقبت اندیش اور نادان ہے۔قانونِ قدرت میں اعمال اور ان کے نتائج کی نظیریں تو موجود ہیں کفارہ کی نظیر کوئی موجود نہیں۔مثلاً بھوک لگتی ہے تو کھانا کھا لینے کے بعد وہ فرو ہو جاتی ہے۔یا پیاس لگتی ہے پانی سے جاتی رہتی ہے۔تو معلوم ہوا کہ کھانا کھانے یا پانی پینے کا نتیجہ بھوک کا جاتے رہنایا پیاس کا بجھ جانا ہوا۔مگر یہ تو نہیں ہوتا کہ بھوک لگے زید کو اور بکر روٹی کھائے اور زید کی بھوک جاتی رہے۔اگر قانون قدرت میں اس کی کوئی نظیر موجود ہوتی تو شاید کفارہ کا مسئلہ مان لینے کی گنجائش رکھتا۔لیکن جب قانونِ قدرت میں اس کی کوئی نظیر ہی نہیں ہے تو انسان جو نظیر دیکھ کر ماننے کا عادی ہے اسے کیوں کر تسلیم کر سکتا ہے۔عام قانونِ انسانی میں بھی تو اس کی نظیر نہیں ملتی۔کبھی نہیں دیکھا 843