نُورِ ہدایت — Page 842
سارے کاموں کو اپنی مٹھی میں لے لیں اور ایسے طور سے خدائی کی گل اُن کے ہاتھ میں آجائے کہ اگر ممکن ہو تو سورج کا غروب اور طلوع بھی انہیں کے اختیار میں ہی ہو اور بارش کا ہونا نہ ہونا بھی ان کے اپنے ہاتھ کی کارستانی پر موقوف ہو اور کوئی بات ان کے آگے انہونی نہ رہے۔اور دعوی خدائی اور کیا ہوتا ہے۔یہی تو ہے کہ خدائی کاموں میں اور خدا تعالیٰ کی خاص قدرتوں میں ہی دست اندازی کریں اور یہ شوق پیدا ہو کہ کسی طرح اس کی جگہ بھی ہم ہی لے لیں۔وہ لوگ جو احادیث مسیح موعود اور احادیث متعلقہ دجال پر حرف زنی کرتے ہیں اُن کو اس مقام میں بھی غور کرنی چاہئے کہ اگر یہ پیشگوئیاں خدائے تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوتیں اور صرف انسان کا کاروبار ہوتا تو ممکن نہ تھا کہ ایسی صفائی اور عمدگی سے پوری ہوتیں کیا یہ بھی کبھی کسی کے گمان میں تھا کہ یہ قوم نصاریٰ کسی زمانہ میں انسان کے خدا بنانے میں اس قدر کوششیں اور جعلسازیاں کریں گے اور فلسفی تحقیقاتوں میں خدا کے لئے کوئی مرتبہ خصوصیت نہیں چھوڑیں گے۔دیکھو خر دجال جس کے مابین اذنین کا ستر (70) باع کا فاصلہ لکھا ہے۔ریلوں کی گاڑیوں سے بطور اغلب اکثر بالکل مطابق آتا ہے اور جیسا کہ قرآن اور حدیث میں آیا ہے کہ اس زمانہ میں اونٹ کی سواریاں موقوف ہو جائیں گی ایسا ہی ہم دیکھتے ہیں کہ ریل کی سواری نے ان تمام سواریوں کو مات کر دیا اور اب ان کی بہت ہی کم ضرورت باقی رہی ہے اور شاید تھوڑے ہی عرصہ میں اس قدر ضرورت بھی باقی نہ رہے ایسا ہی ہم نے بچشم دیکھا کہ در حقیقت اس قوم کے علماء و حکماء نے دین کے متعلق وہ فتنے ظاہر کئے کہ جن کی نظیر حضرت آدم سے لے کرتا ایں دم پائی نہیں جاتی۔پس بلا شبہ نبوت میں بھی انہوں نے مداخلت کی اور خدائی میں بھی۔اب اس سے زیادہ ان احادیث کی صحت کا کیا ثبوت ہو کہ ان کی پیشگوئی پوری ہوگئی اور قرآن کریم کی ان آیات میں یعنی إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا میں حقیقت میں اسی دجالی زمانہ کی طرف اشارہ ہے جس کو ذرا بھی عقل ہو تو وہ سمجھ سکتا ہے اور یہ آیت صاف بتلا رہی ہے کہ وہ قوم ارضی علوم میں کہاں تک ترقی کرے گی۔( شهادة القرآن ، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 314 تا 317) 842