نُورِ ہدایت — Page 821
کہ پہلی اقوام کی شہادت اس امر کی تائید میں موجود ہے۔سورۃ الانشراح میں عقلی دلیل دی گئی تھی۔اب اس سورۃ میں نقلی دلیل دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ ایسے ہی حالات میں اللہ تعالیٰ نے بعض قوموں کو بھی ترقی دی ہے اس سے تم نتیجہ نکال سکتے ہو کہ جس طرح آدم اور نوع اور موسیٰ کے وقت میں ہوا کہ باوجود مخالف حالات کے محض روحانی سامانوں سے ان کو فتح حاصل ہوئی اب بھی ایسا ہی ہوگا۔رض حضرت خلیفہ المسیح الاول لکھتے ہیں کہ ان کی قسم اس لئے کھائی یعنی تین اور زیتون کی کہ علاوہ غذا کے دوا کے طور پر بھی یہ استعمال ہوتی ہیں۔کبھی طبیب تین تجویز کرتا ہے کبھی زیتون۔مطلب یہ کہ ایک زمانہ میں خدا تعالیٰ نے طور سینین کا نسخہ استعمال کیا اور اس زمانہ میں بلد الامین کا نسخہ اس نے تجویز کر دیا۔گویا۔۔۔تین سے مراد بنی اسرائیل اور زیتون سے مراد بلد الامین سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے معنی نہایت لطیف ہیں کہ ایک قوم کو تین مشابہت دی گئی ہے اور دوسری کو زیتون سے۔اور بتایا گیا ہے کہ ایک وقت ہم نے تین کا نسخہ تجویز کیا تھا اور دوسرے وقت میں زیتون کا کیونکہ ہم کامل طبیب ہیں اور جیسی جیسی بیماری ہوتی ہے ویسا ہی اس کا علاج کرتے ہیں۔بلکہ میں کہتا ہوں کہ اس سے زیادہ اس جگہ یہ بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ تین مزے میں تو اچھی ہوتی ہے مگر وہ جلدی سڑ جاتی ہے۔اس کے مقابل میں زیتون علاوہ اس کے کہ پھل کا کام دیتا ہے اس کا روغن کثرت کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے اور اچار میں بھی ڈالا جاتا ہے جو اس کو دیر تک قائم رکھتا ہے۔گویات تین تو اپنی ذات میں بھی قائم نہیں رہ سکتی اور زیتون کے ساتھ دوسری چیزیں بھی قائم رکھی جاتی ہیں اور ان دو مثالوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ موسوی تعلیم انجیر کی طرح سڑ جانے والی تھی۔اب ہم تمہیں وہ تعلیم دیں گے جو نہ صرف سڑنے اور خراب ہونے سے محفوظ رہے گی بلکہ انسانی ذہنوں میں ایک ایسا نور پیدا کر دے گی کہ اس کے ذریعہ سے نئے سے نئے 821