نُورِ ہدایت — Page 822
معارف اور نئے سے نئے علوم انہیں اس کتاب سے حاصل ہوتے رہیں گے۔جیسے سورۃ نور میں زیتون کے تیل کی تعریف کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تمسسه تار (النور (36)۔یہ تیل ایسا اعلیٰ درجہ کا ہے کہ خواہ آگ اس کے قریب نہ لائی جائے تب بھی وہ خود بخود بھڑک اٹھتا ہے۔ایسی اعلیٰ درجہ کی چیز کے ساتھ الہی کلام کومشابہ قراردینے کے معنی یہی ہیں کہ وہ کلام جو اب دنیا میں نازل کیا جائے گا نئے سے نئے علوم اور معارف کو دنیا میں قائم کرنے کا ایک ذریعہ ہوگا۔اور جہالت اور معصیت کی تاریکیوں کو دور کر دے گا۔ان دونوں معنوں میں جو اوپر بیان کئے جاچکے ہیں ترتیب طبعی پائی جاتی ہے۔ایک میں درجہ کے لحاظ سے اور ایک میں زمانہ کے لحاظ سے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَقَد خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمِ ـ ان مثالوں سے پتہ لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو نہایت معتدل القویٰ بنایا ہے۔کیونکہ جب بھی خدا تعالیٰ کے نبی آئے آخر دنیا ان کو مان گئی۔۔۔۔اس لحاظ سے لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقویم کے یہ معنی ہوں گے کہ ان میں سے جس نبی کو بھی دیکھ لو تمہیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ آخر وہی فتح یاب ہوا۔بیشک دنیا نے ان کی مخالفت کی۔ان کو مٹانے کے لئے اس نے مختلف قسم کی تدابیر اختیار کیں مگر آخر ان کی تعلیم کو ماننے پر مجبور ہوگئی۔اس سے یہ نتیجہ نکل آیا کہ ہم نے انسان کو نہایت اعلیٰ درجہ کی تقویم میں پیدا کیا ہے۔موسی" آئے تو ہم نے انہیں فتح دی۔عیسی علیہ السلام آئے تو ہم نے انہیں فتح دی۔اب تم محمد رسول اللہ علیم کو نہیں مانتے مگر ایک دن تمہیں اس کی تعلیم کے سامنے اپنے سر کو جھکانا پڑے گا اور اس طرح ثابت ہو جائے گا کہ ہم نے انسان کو احسن تقویم میں پیدا کیا ہے۔ا جب میں نے غور کیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان آیات کا ایک نیا علم بخشا۔اس کے لحاظ سے یہاں نہ دو زمانوں کا ذکر ہے نہ تین کا بلکہ چار زمانوں کی خبر دی گئی ہے اور اس طرح ایک نہایت ہی لطیف مضمون بیان کیا گیا ہے جو لَقَد خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ کے 822