نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 820 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 820

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: عربی میں آدمی کو انسان کہتے ہیں یعنی جس میں دو انس ہیں ایک انس خدا کی اور ایک انس بنی نوع کی۔خدا نے چاہا ہے کہ انسان خدا کے اخلاق پر چلے۔جیسے وہ ہر ایک عیب اور بدی سے پاک ہے یہ بھی پاک ہو۔جیسے اس میں عدل ، انصاف اور علم کی صفت ہے وہی اس میں ہو اس لئے اس خلق کو احسنِ تقویم کہا ہے۔لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ جو انسان خدائی اخلاق اختیار کرتے ہیں وہ اس آیت سے مراد ہیں اور اگر کفر کرے تو پھر أسفل السافلین اس کی جگہ ہے۔انسان اگر اللہ تعالیٰ کے لئے اپنی زندگی وقف نہ کرے اور اس کی مخلوق کے لئے نفع رساں نہ ہو تو یہ ایک بریکار اور نکمی ہستی ہو جاتی ہے۔بھیڑ بکری بھی پھر اس سے اچھی ہے جو انسان کے کام تو آتی ہے لیکن یہ جب اشرف المخلوقات ہو کر اپنی نوع انسان کے کام نہیں آتا تو پھر بدترین مخلوق ہو جاتا ہے۔اسی کی طرف اشارہ کر کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ في أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ ثُمَّ رَدَدْنَهُ أَسْفَلَ سَفِلِينَ میں گرایا جاتا ہے۔پس یہ سچی بات ہے کہ اگر انسان میں یہ نہیں ہے کہ وہ خدا کے اوامر کی اطاعت کرے اور مخلوق کو نفع پہنچاوے تو وہ جانوروں سے بھی گیا گزرا ہے اور بدترین مخلوق ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں (ماخوذ از تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام) ما سورۃ انشراح میں بتایا گیا تھا کہ محمد رسول اللہ الا ایم کا انجام اچھا ہوگا کیونکہ نیک انجام کے لئے جن امور کی ضرورت ہوتی ہے وہ آپ کو حاصل ہیں۔اب اس سورۃ میں یہ بتایا گیا ہے 820