نُورِ ہدایت — Page 723
اُن کو گالیاں دیں گے۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق احادیث میں آتا ہے کہ آپ نہ سناب تھے اور نہ لکان۔نہ گالیاں دیتے تھے اور نہ لوگوں پر لعنتیں ڈالتے تھے۔جب انسان کا مزاج چڑ چڑا ہو جاتا ہے یا بخیل اور ضدی ہوتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں سے لڑتا ہے اور گالی گلوچ دیتا ہے۔چنانچہ بعض لوگوں میں یہ نقص ہوتا ہے کہ کسی کام کے لئے لوگ اُن کے پاس جائیں تو وہ شور مچادیتے ہیں کہ یہ بد بخت ہر وقت پیچھے پڑے رہتے ہیں۔کسی وقت چھوڑتے بھی نہیں۔لیکن اگر کوئی سخی ہوتا ہے حسن سلوک کرتا ہے، لوگوں سے محبت کے ساتھ پیش آتا ہے تو اپنے منہ سے لغو بات نہیں سنتا اور اگر وہ حسن سلوک میں کامل ہو اور اس کے ساتھ ہی اُسے طاقت اور غلبہ بھی حاصل ہو تو وہ اور لوگوں سے بھی لاغيّة نہیں سنتا۔در حقیقت دوسروں سے لاغية نہ سننے میں مسلمانوں کی طاقت اور اُن کی قوت کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کیونکہ دنیا میں ایسے کمینے لوگ بھی پائے جاتے ہیں کہ خواہ اُن سے کس قدر حسنِ سلوک کیا جائے وہ بُرا بھلا کہنے سے باز نہیں آتے۔ہماری جماعت کو ہی دیکھ لو۔ہم کس قدر لوگوں سے سلوک کرتے ہیں اور ان کی بہتری کی کوششیں کرتے ہیں مگر سب سے زیادہ گالیاں ہمیں ہی ملتی ہیں۔تو بعض لوگ ایسے گندے ہو جاتے ہیں کہ کسی حالت میں بھی نیش زنی سے باز نہیں آتے۔جس طرح عقرب کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ نیش زنی کرتا ہے اسی طرح بعض لوگ شیطان کے ورغلانے سے اتنے گندے ہو جاتے ہیں کہ اپنے نفع اور نقصان کو بھی نہیں دیکھتے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والے پیغام کی پوری مخالفت کرتے ہیں خواہ اس پیغام کو پیش کرنے والے کتنی ہمدردی اور محبت سے کام لے رہے ہوں۔لیکن اگر الہی جماعت کو حکومت اور غلبہ میسر آجائے تو پھر وہی لوگ بُوٹ چاٹنے لگ جاتے ہیں۔پس لا تَسْمَعُ فِيهَا لاغِيَةً میں مسلمانوں کی حکومت کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں کو ایسا غلبہ حاصل ہو جائے گا کہ اُن کے مقابلہ میں کوئی شخص بُری باتیں کہنے کی جرات نہیں کرے گا۔اسی طرح لَا تَسْمَعُ فِيْهَا لَاغِيَةً میں مسلمانوں کے 723