نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 676 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 676

مامور کی ضرورت ہوگی۔إِنَّهُ يَعْلَمُ الْجَهْرَ وَمَا يخفى إِنَّهُ يَعْلَمُ الْجَهْرَ وَمَا يَخفی اس آیت میں اللہ تعالیٰ وجہ بیان فرماتا ہے کہ کیوں ایک زمانہ میں مغز قرآن دُنیا سے اُٹھ جائے گا اور صرف الفاظ لوگوں کے پاس باقی رہ جائیں گے۔فرماتا ہے خدا لوگوں کی قلبی اور اُن کی ظاہری حالت کو خوب جانتا ہے۔جب تک مسلمانوں کا ظاہر بھی درست رہے گا اور ان کا باطن بھی درست رہے گا قرآن ظاہر میں بھی محفوظ رہے گا اور باطن میں بھی محفوظ رہے گا۔جب مسلمان صرف ظاہر میں مسلمان کہلائیں گے اُن کا باطن خراب ہو جائے گا۔قرآن کا بھی صرف ظاہر ٹھیک رہے گا اُس کا باطن یعنی مغز ان سے اڑ جائے گا۔خدا ظاہر کو بھی جانتا ہے اور باطن کو بھی جانتا ہے۔جب مسلمانوں کے دل میں ایمان نہیں رہے گا تو اللہ تعالیٰ قرآن کریم کے معنے اُن پر کیوں کھولے گا۔قرآن کریم تو ایک نور ہے جو صرف نورانی لوگوں پر گھل سکتا ہے۔بد عمل اور بے ایمان لوگ اس کے معارف سے آگاہ نہیں ہو سکتے۔پس الا ماشاء الله میں مسلمانوں کی آخری زمانہ کی حالت کا نقشہ کھینچا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں پر ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے جب وہ الفاظ کو تو یا درکھیں گے مگر عمل کرنا بھول جائیں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے چونکہ ظاہر میں یہ شریعت ہمیشہ محفوظ رہے گی اس لئے ظاہر میں کسی اور کتاب کی ضرورت نہیں ہو گی۔لیکن باطن میں چونکہ نقص پیدا ہوتا رہے گا اس لئے ضروری ہے کہ افہام و تفہیم کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے انبیاء اور مامور مبعوث ہوتے رہیں جو قرآن کریم کی معنوی حفاظت کا فرض سر انجام دیں۔اور جس چیز کو لوگ بھول چکے ہوں اُس کو دوبارہ الہی تائید سے تازہ کر دیں۔ولييرُ الكَلِلْيُسْرى اس آیت میں اللہ تعالیٰ یہ مضمون بیان فرماتا ہے کہ تیرے دین کی حفاظت اور اُس کے دائمی طور پر قیام کا یہ بھی ایک ذریعہ ہے کہ اس میں یسری یعنی احکام شریعت میں سے 676