نُورِ ہدایت — Page 675
اُس کا وجود بھول گیا یعنی وہ الفاظ جو پہلے یاد تھے حافظہ میں سے نکل گئے ہیں یا شکل جو پہلے ذہن میں مستحصہ تھی وہ اب جاتی رہی ہے۔لیکن کبھی اس کے معنے حقیقت کو بھول جانے کے ہوتے ہیں۔حمد اس آیت میں الا سے اس دوسری قسم کے نسیان کی طرف ہی اشارہ ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سَنُقْرِئُكَ فَلا تنسی ہم مجھ کو قرآن کریم پڑھائیں گے ( اور تجھ سے مراد جیسا کہ میں بتا چکا ہوں رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نہیں بلکہ امت محمدیہ مراد ہے ) اور تو اس قرآن کو نہیں بھولے گا۔یعنی تیری اُمت اس قرآن کو نہیں بھولے گی۔إِلَّا مَا شَاء الله مگر وہ حصّہ جو خدا چاہے گا بھول جائے گا۔یعنی ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ مسلمان لفظا تو قرآن کریم کو یاد رکھیں گے مگر معنا اُس کو بھول جائیں گے۔الفاظ کو تو قائم رکھیں گے مگر آدم کی طرح الفاظ کی رُوح کو بھول جائیں گے۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَبْقَى مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا اسْمُهُ وَلَا يَبْقَى مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا رَسْمُهُ (مشكوة کتاب العلم صفحه (38) یعنی ایک زمانہ ایسا آئے گا جب قرآن کے صرف الفاظ باقی رہ جائیں گے۔ایمان اور اسلام کی رُوح اُڑ جائے گی۔اسی کا اِلَّا مَا شَاءَ اللہ میں استثناء کیا گیا ہے۔اور بتایا گیا ہے کہ تم اس قرآن کو نہیں بھولو گے مگر ایک قسم کا نسیان ہو سکے گا۔یہ مطلب نہیں کہ سورۃ اعراف نہیں مٹے گی اور سورۃ مائدہ مٹ جائے گی۔یا سورۃ کوثر نہیں مٹے گی اور سورۃ الناس مٹ جائے گی۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کے الفاظ تو باقی رہیں گے مگر معنی اُڑ جائیں گے۔پس الا اس جگہ قرآن کریم کے الفاظ کے ٹکڑوں کے استثناء کے طور پر استعمال نہیں ہوا بلکہ دو قسم کی حفاظتوں میں سے ایک قسم کی حفاظت کی نسبت استعمال ہوا ہے۔اور اس میں قول فصل کے متعلق اس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے کہ اگر یہ قول فصل ہے تو پھر کسی اور مامور کی کیا ضرورت ہے۔سو بتایا کہ قرآن کریم کے ظاہر کی حفاظت غیر فاصل کا وعدہ ہے۔اس کی معنوی غیر فاصل حفاظت کا وعدہ نہیں۔وہ مستقل تو ہو گی مگر غیر فاصل نہیں۔جب اللہ تعالیٰ لوگوں کو نااہل پائے گا مغز۔قرآن اُڑ جائے گا۔جسے واپس لانے کے لئے پھر ایک 675